دی وائس آف امہ : او آئی سی انسانی حقوق کمیشن نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات پر یمن کی انصاراللہ (حوثی) تحریک کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی خبر رساں یونین (یونا) کے مطابق تنظیم کے آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن نے یہ بیان ہفتے کو جدہ سے جاری کیا۔
او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا مؤقف
کمیشن کے مطابق 6 سے 8 اکتوبر کے دوران ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے میزائل حملوں میں، جن میں ایک مسافر طیارہ بھی نشانہ بنا، تین سعودی شہری اور تین غیر ملکی جاں بحق اور کم از کم 36 افراد زخمی ہوئے۔ کمیشن نے کہا کہ شہریوں اور شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولِ امتیاز، تناسب اور احتیاط کی خلاف ورزی ہے، اور عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل 7 اکتوبر کو او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ نے بھی ان حملوں کو "خطرناک کشیدگی” قرار دیتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیں : ایئرپورٹ کے بدلے ایئرپورٹ: یمنی حملوں سے سعودی پروازیں متاثر
صنعاء ایئرپورٹ پر بمباری اور یمن میں شہری ہلاکتیں
دوسری جانب ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق انصاراللہ سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چار فضائی حملے کیے اور صوبہ حجہ کے علاقے المحابشہ میں ایک مواصلاتی نیٹ ورک کو تین حملوں میں نشانہ بنایا؛ سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار ہیں کہ یمن میں اگست سے اب تک کم از کم 46 عام شہری جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ او آئی سی کمیشن کے بیان میں یمن کے اندر شہری ہلاکتوں کا ذکر شامل نہیں تھا۔
ماخذ: یونا (او آئی سی)، اسلامی تعاون تنظیم، اناطولیہ، الجزیرہ




