دی وائس آف امہ : جارجیا کی وادی پنکیسی میں کِست مسلم برادری کے بچوں اور خواتین کے لیے برسوں سے چلنے والے تعلیمی مراکز اب عمارتیں بھی کھو بیٹھے ہیں۔ جارجیا کے روسی زبان کے آزاد چینل سووا نیوز کے مطابق 6 اکتوبر کو جوکولو ایجوکیشنل سینٹر کی ڈائریکٹر ایزا بیکاؤری نے بتایا کہ ضلع اخمیتا کی میونسپلٹی نے لیز کی تجدید سے انکار کر کے انہیں سرکاری خط کے ذریعے عمارت خالی کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد سامان نکالنا پڑا۔
کِست چیچن اور اِنگش نسل کے سنی مسلمان ہیں جو انیسویں صدی میں قفقاز کے پہاڑوں سے اتر کر مشرقی جارجیا کے علاقے کاخیتی کی اس تنگ وادی میں آباد ہوئے۔ چیچنیا کی دوسری جنگ کے دوران یہاں ہزاروں پناہ گزین آئے، اور اس کے بعد سے یہ چھوٹی سی برادری میڈیا میں بار بار "شدت پسندی کے گڑھ” کا ٹھپہ جھیلتی رہی ہے۔
پنکیسی کے مراکز کیوں بند ہوئے
جارجیا آن لائن کے مطابق کاخیتی ریجنل ڈیولپمنٹ فنڈ نے 17 فروری کو دوئیسی، جوکولو اور کوریتی کے مراکز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ عمارتوں کی لیز نہیں بڑھائی جا سکی اور ملکی قانون سازی میں تبدیلیوں نے عطیہ دہندگان سے مدد لینا مشکل بنا دیا۔ ادارے کے مطابق ان مراکز میں 20 مقامی خواتین ملازم تھیں اور ہزاروں نوجوان یہاں سے قومی امتحانات کی مفت تیاری کر چکے تھے۔
سووا نیوز کے مطابق سرگرمیاں 28 فروری کو نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ رک گئی تھیں، مگر انتظامیہ حالات بدلنے کی امید پر عمارت میں رہنا چاہتی تھی۔
مزید پڑھیں : فرانس میں حجاب پر پابندی کے خلاف انوکھا احتجاج: غیر مسلم شہریوں کی اظہارِ یکجہتی
"پنکیسی نہیں چھوڑوں گی”
بیکاؤری کے مطابق جوکولو مرکز میں ہر سال 150 سے زیادہ طلبہ انگریزی اور کمپیوٹر سیکھتے تھے اور خواتین کو ہنر سکھائے جاتے تھے۔ سووا کے مطابق وادی کے 17 دیہات کے طلبہ یہاں جارجیائی زبان، تاریخ اور ریاضی سمیت کئی مضامین مفت پڑھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تنظیم سے زیادہ ان کی ذات کے خلاف ہے۔ انہوں نے مرکز میں کسی بھی ریاست مخالف سرگرمی کی سختی سے تردید کی اور کہا: "عمارت خالی کر دوں گی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مجھے پنکیسی سے نکال دیں گے۔ میری والدہ یہیں دفن ہیں۔”
ماخذ: سووا نیوز، جارجیا آن لائن




