دی وائس آف امہ : غزہ کے کلاس رومز میں اب استاد کا ہر جملہ مشین کی سماعت سے گزر سکتا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین نے 10 اکتوبر کو ایک امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں سرگرم امریکی ادارہ "غزہ چلڈرن ولیج” کلاسوں کی گفتگو ریکارڈ کر کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے الفاظ کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے جنہیں وہ "اشتعال انگیز”، "نفرت انگیز” یا "یہود دشمن” سمجھتا ہے۔
غزہ کے کلاس رومز کی نگرانی کا طریقہ
مرکز کے مطابق یہ منصوبہ ادارے کے بانی، فلسطینی نژاد امریکی نیورو سرجن داؤد حسن نے ستمبر میں ایک آن لائن سیمینار میں پیش کیا۔ نظام کسی جملے کو قابلِ اعتراض قرار دے تو انہیں الرٹ ملے گا اور وہ متعلقہ استاد سے رابطہ کریں گے۔ ریکارڈنگز 72 گھنٹے محفوظ رہیں گی اور ادارہ اسے درجنوں کلاسوں میں نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم آغاز کی تاریخ اور یہ واضح نہیں کہ اساتذہ اور والدین کو پہلے سے بتایا گیا یا نہیں۔
ادارے کے "اکیڈمیز آف ہوپ” نامی اسکول زیادہ تر فلسطینی نصاب پڑھاتے ہیں، مگر داؤد حسن کے بقول ان میں سے وہ مواد نکال دیا گیا ہے جو ان کے نزدیک تشدد یا اسرائیل دشمنی کو ہوا دیتا ہے۔ ادارے کے مطابق اس کی فنڈنگ کا بڑا حصہ انفرادی عطیات سے آتا ہے، جن میں امریکی یہودی بھی شامل ہیں، اور وہ اسرائیل سمیت کئی ممالک کے امدادی اداروں سے تعاون کرتا ہے۔
مزید پڑھیں : غزہ کا تعلیمی شعبہ تباہی کے دہانے پر، نسل کشی کے ہولناک اعداد و شمار سامنے آگئے
فلسطینی بیانیے پر پہرہ
مرکز کے مطابق ادارے کے بورڈ رکن بشارہ بحبح نے کہا کہ یہ منصوبہ بورڈ کے سامنے کبھی نہیں لایا گیا اور کلاسوں میں خیالات کے آزادانہ تبادلے کو روکنا قابلِ قبول نہیں۔ ایک شراکت دار امدادی ادارے کے عہدیدار نے اسے "پنڈورا باکس” قرار دیا۔ فلسطینی پبلک ڈپلومیسی انسٹی ٹیوٹ کی ایناس عبدالرازق نے نئی نسل کے ذہنوں پر قابو پانے کی کوششوں کو تشویشناک کہا۔
یہ سب ایسے وقت ہو رہا ہے جب تین سالہ اسرائیلی جنگ غزہ کے اسکولوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر چکی ہے اور لاکھوں بچے باقاعدہ تعلیم سے محروم ہیں۔ خود ادارے کے مطابق اس کے اسکولوں کے بہت سے بچوں کے والدین یا رشتہ دار جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔ ناقدین کے نزدیک ترجیح بچوں کو کلاس تک پہنچانا ہونی چاہیے، نہ کہ ان کے اساتذہ کی زبان پر پہرہ بٹھانا۔
ماخذ: مرکزاطلاعات فلسطین




