مواد پر جائیں

یمن جنگ پر مسلم دارالحکومتوں کا یکطرفہ ردعمل | تجزیہ

دی وائس آف امہ : (تجزیہ) یمن جنگ ایک بار پھر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، اور گزشتہ 48 گھنٹوں میں مسلم دارالحکومتوں سے آنے والے بیانات ایک واضح رجحان دکھاتے ہیں: سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کی متفقہ مذمت، مگر یمن کے اندر عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تقریباً مکمل خاموشی۔ یہ تجزیہ صرف 9 اور 10 اکتوبر کے مصدقہ بیانات اور اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

یکجہتی کے بیانات

شامی خبر رساں ادارے سانا کے مطابق مصر نے ہفتے کو ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ امارات نے بھی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی ظاہر کی۔ ڈیلی صباح کے مطابق ترکیہ نے جمعے کو حملوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا۔ کویت کے امیر نے تعزیتی پیغام بھیجا، عمان کے وزیر خارجہ نے شہری تنصیبات پر حملے مسترد کیے، اور یونا کے مطابق او آئی سی انسانی حقوق کمیشن نے ہفتے کو ان حملوں کو ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا۔ ان میں سے کسی بیان میں، جو ہم نے پڑھے، یمن میں شہری ہلاکتوں کا ذکر نہیں تھا۔

مزید پڑھیں : لبنان سے یمن تک: خطے میں بدلتا ہوا اسٹریٹجک منظرنامہ اور مزاحمت کا نیا نقشہ

یمن جنگ کی دوسری تصویر

اسی دوران اناطولیہ کے مطابق سعودی اتحاد نے "بڑے پیمانے پر آپریشن” میں 136 اہداف تباہ کرنے کا اعلان کیا، اور الجزیرہ کے مطابق اتحادی طیاروں نے جمعے کو صنعاء پر شدید بمباری کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگست سے اب تک یمن میں کم از کم 46 شہری جاں بحق ہوئے جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، اور دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے سعودی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کے ساتھ تمام فریقوں سے شہریوں کے تحفظ اور سیاسی عمل کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی ہفتے قطر نے اقوام متحدہ میں بین الاقوامی قانون کو "دہرے معیار کے بغیر” نافذ کرنے پر زور دیا۔ اگر یہی اصول یمن پر لاگو ہو تو شہری جانوں کا احترام سرحد کے دونوں جانب یکساں ہونا چاہیے؛ بصورت دیگر مسلم دنیا کی سفارت کاری جنگ ختم کرنے کے بجائے ایک فریق کی صف بندی بن کر رہ جائے گی۔

ماخذ: یونا، سانا، ڈیلی صباح، کویت ٹائمز، عمان آبزرور، اناطولیہ، الجزیرہ، گلف ٹائمز

About The Author