تحریر: علی اظہار
تاریخ: 4 ستمبر 2026
مغربی ایشیا کا علاقہ ایک نئے جغرافیائی سیاسی ڈھانچے کا مشاہدہ کر رہا ہے، جہاں روایتی فوجی حکمت عملیوں کی جگہ نیٹ ورک پر مبنی مزاحمتی ماڈل نے لے لیا ہے۔ لبنان کی پہاڑیوں سے لے کر یمن کے صحراؤں تک، ایک مربوط مزاحمت کا نیا نقشہ تشکیل پا رہا ہے جو ایران کی قیادت اور اسٹریٹجک بصیرت کے تحت کام کر رہا ہے۔ یہ مضمون اسی پس منظر کا تجزیہ پیش کرتا ہے اور اس کے ممکنہ علاقائی اور عالمی اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
لبنان: خاموشی کے پردے میں کارروائیاں
لبنان میں حزب اللہ کی موجودہ حکمت عملی ‘خاموشی اور استعداد’ کے اصول پر کاربند ہے، جو درحقیقت ایک طویل مدتی فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے حالیہ دنوں میں پہاڑی علاقوں میں پیش قدمی کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم حزب اللہ کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ خاموشی درج ذیل حکمت عملیوں کا حصہ ہے:
اپنی فوجی پوزیشنوں کو مخفی رکھنا
دشمن کو غلط اطلاعات فراہم کرنا
مناسب وقت پر جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا
لبنان کا محاذ فی الحال ‘انتظاری مرحلے’ میں ہے، جہاں مزاحمت اپنی مکمل جنگی صلاحیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
شام: مزاحمت کا اسٹریٹجک گہرائی
شام کا محاذ لبنان کے لیے ایک اسٹریٹجک گہرائی فراہم کرتا ہے، جو ایران اور حزب اللہ کے درمیان رسد کی لائنوں کو محفوظ بناتا ہے۔ ایران کے فوجی مشیروں اور شامی حکومت کے مابین تعاون نے ایک مربوط نظام تشکیل دیا ہے جو:
لبنان تک ہتھیاروں اور رسد کی ترسیل کو یقینی بناتا ہے
اسرائیلی فضائی حملوں کا بروقت جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے
زمینی راستوں کے ذریعے فوجی نقل و حرکت کو ممکن بناتا ہے
امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹس کے مطابق، شام میں ایران کی موجودگی کو ‘علاقائی طاقت کا مرکز’ قرار دیا گیا ہے، جو مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر رہا ہے۔
عراق: امریکی موجودگی کے خلاف مزاحمت
عراق میں مسلح گروہوں نے امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ڈرون اور راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ عراقی حکومت نے باضابطہ طور پر امریکی فوجی موجودگی کی توسیع کی مخالفت کی ہے، جبکہ مزاحمتی گروہوں نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج 2026 کے بعد بھی عراق میں رہی تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں :
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عراق میں مزاحمت کا نیا نقشہ صرف مسلح جدوجہد تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک مضبوط سیاسی پہلو بھی ہے جو عراقی عوام اور حکومت میں امریکہ مخالف جذبات کو فروغ دے رہا ہے۔
فلسطین: زیرِ زمین سرگرمیاں
مقبوضہ فلسطین میں ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے نیٹ ورکس نے پچھلے چند مہینوں میں نمایاں سرگرمیاں دکھائی ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے، تاہم مزاحمتی سرگرمیاں جاری ہیں اور یہ نیٹ ورک اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے اپنے تعاون کو صرف فلسطینی گروہوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ بعض یہودی افراد بھی ایران کے ساتھ تعاون کرتے پائے گئے ہیں، جو اس نیٹ ورک کی وسعت اور تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔
یمن: انصاراللہ کی پیشرفت
یمن میں انصاراللہ (حوثی) تحریک نے حالیہ مہینوں میں اہم فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے:
سعودی اتحاد کے حامی علاقوں میں نمایاں پیش قدمی کی
امارات کی فوجی موجودگی کو براہِ راست چیلنج کیا
بحیرہ احمر میں اسرائیلی اور امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا
انصاراللہ کے رہنماؤں کے مطابق، وہ جلد ہی مزید علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیں گے، جس سے یمن میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو جائے گا۔
مربوط مزاحمتی نیٹ ورک: ایک جامع جائزہ
لبنان، شام، عراق، فلسطین اور یمن میں موجود مزاحمتی گروہ کسی ایک مرکزی قیادت سے براہِ راست کنٹرول نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک مشترکہ نظریے اور اسٹریٹجک اہداف کے تحت ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
اس نیٹ ورک کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
غیر مرکزی قیادت: ہر گروہ اپنے علاقے میں خود مختار ہے
مشترکہ دشمن: اسرائیل اور امریکہ کو مشترکہ دشمن قرار دینا
معلوماتی تبادلہ: انٹیلی جنس اور فوجی معلومات کا باہمی اشتراک
ہتھیاروں کی ترسیل: ایران سے شام کے راستے لبنان اور فلسطین تک ہتھیاروں کی فراہمی
علاقائی اثرات اور عالمی ردعمل
اس مزاحمتی نقشے کے متعدد اہم علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوئے ہیں:
اسرائیل کو دو محاذوں پر جنگ کا سامنا: شمال میں لبنان اور جنوب میں غزہ کے محاذ
امریکی فوجی موجودگی کا چیلنج: عراق اور شام میں امریکی اڈے مسلسل خطرے کا شکار
خلیجی ریاستوں کی تشویش: ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ پر
عالمی تیل کی منڈی میں عدم استحکام: آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں ممکنہ بحری خطرات
مستقبل کے ممکنہ منظرنامے
ماہرین کے مطابق، آنے والے مہینوں میں درج ذیل صورتحال ممکن ہیں:
لبنان اور اسرائیل کے درمیان چھوٹی پیمانے پر جھڑپیں ہو سکتی ہیں
یمن میں انصاراللہ مزید علاقے فتح کر سکتا ہے
عراق میں امریکی اڈوں پر حملوں کی شدت بڑھ سکتی ہے
بحیرہ احمر میں بحری جھڑپیں ممکن ہیں
تاہم، کوئی بھی فریق مکمل پیمانے پر جنگ کے لیے تیار نہیں دکھائی دیتا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ صورتحال ‘نہ جنگ، نہ امن’ کی سی ہے۔
نتیجہ
لبنان سے یمن تک پھیلا ہوا مزاحمت کا نیا نقشہ مغربی ایشیا میں طاقت کے نئے توازن کی علامت ہے۔ ایران نے اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے ایک ایسا پیچیدہ نظام تشکیل دیا ہے جو روایتی فوجی طاقت کے مقابلے میں زیادہ لچکدار، وسیع اور موثر ثابت ہو رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ نیا نقشہ ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج ہے، کیونکہ وہ اب کسی ایک محاذ کے بجائے متعدد محاذوں پر بیک وقت مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔ آنے والے سال اس نیٹ ورک کی مضبوطی، اس کے جوابی اقدامات، اور عالمی طاقتوں کے ردعمل کا تعین کریں گے۔
بین الاقوامی برادری کو اس صورتِ حال کو سمجھنے اور ممکنہ تنازعات کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں، ورنہ خطے میں کوئی بھی معمولی غلط فہمی ایک بڑی علاقائی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔


