مواد پر جائیں

خیبر پختونخوا میں گورنر راج عوامی مینڈیٹ پر حملہ ہے: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

دی وائس آف امہ : سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو عوامی مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا ہے۔ اتوار کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے صوبے کی منتخب حکومت کو طاقت کے زور پر ختم کرنے، دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیر اعلیٰ کی گرفتاری اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کی، اور اسے عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین حملہ کہا۔

پاکستانی روزنامہ ڈان کے مطابق صدرِ مملکت نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سخت ردعمل

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا: "عوامی مینڈیٹ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں۔” ان کا کہنا تھا: "طاقت کے بل پر اقتدار مل سکتا ہے، عوامی اعتماد نہیں۔”

انہوں نے کہا کہ عوامی تائید کے بغیر پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق امن طاقت کے اندھا دھند استعمال سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام، انصاف اور مؤثر حکمتِ عملی سے آتا ہے۔

مزید پڑھیں : بلومبرگ کا اعتراف: امریکی بمباری کے باوجود ایران کی میزائل صنعت محفوظ

سیاسی نظام کے عدم استحکام کا انتباہ

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف نے خبردار کیا کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے عوام کو مزید دیوار سے لگانا، ان کے ووٹ کی توہین کرنا اور آئینی و جمہوری راستے بند کرنا پورے سیاسی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کسی فرد یا خاندان کی جاگیر نہیں۔ ان کے بقول: "پاکستان کا استحکام جمہوریت اور آئین کی بالادستی میں ہے۔”

ماخذ: سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا بیان، ڈان

About The Author