دی وائس آف امہ : نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایم اے) کے اجلاس کے باہر سینکڑوں ڈاکٹروں نے جمع ہو کر مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کی رکنیت معطل کی جائے۔ الجزیرہ کے مطابق ہفتے کو 81 طبی کارکنوں نے اپنے طبی یونیفارم اتار کر اجلاس کی عمارت کے سامنے ایک قطار میں لٹکا دیے، اور ہر یونیفارم پر اسرائیلی حراست میں قید کسی فلسطینی طبی کارکن کا نام درج تھا۔
اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن پر خاموشی اور شراکت کا الزام
مظاہرے کا اہتمام کرنے والے اتحاد "آئی ایم اے آؤٹ” کا کہنا ہے کہ اسرائیلی تنظیم ڈبلیو ایم اے کے طبی اخلاقیات کے ضابطے کے تقریباً ہر اصول کی خلاف ورزی کے باوجود رکن بنی ہوئی ہے۔ اتحاد کی رکن جنرل پریکٹیشنر مجریم احمتاج نے کہا: "یہ یونیفارم خالی نہیں ہونے چاہییں۔ ہمارے ساتھیوں کی جگہ ان کے مریضوں کے پاس ہے، اسرائیلی جیلوں میں نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ایسوسی ایشن تماشائی نہیں بلکہ ان حملوں کا دفاع کرتی اور بین الاقوامی مذمت کا راستہ روکتی ہے، اور "یہ طبی غیر جانبداری نہیں، شراکت ہے۔”
الجزیرہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیلی نسل کش جنگ میں 1700 سے زائد فلسطینی طبی کارکن شہید ہو چکے ہیں اور علاقے کے تقریباً تمام اسپتال اور طبی مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔ مہم کی جانب سے جوناتھن فلکس مین نے کہا کہ اسرائیلی تنظیم کے ساتھ ڈبلیو ایم اے کے تیس سالہ مکالمے نے اسے صرف بے خوفی دی ہے، اس لیے اس کی رکنیت فوراً معطل کی جائے۔ مہم نے دنیا بھر کے ساڑھے 6 ہزار سے زائد طبی کارکنوں کے دستخطوں والی پٹیشن بھی پیش کی۔
مزید پڑھیں : سدے تیمان تشدد: ہند رجب فاؤنڈیشن کی اسرائیلی ڈاکٹروں پر شکایت
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ
مظاہرین نے غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ الجزیرہ کے مطابق انہیں کچھ عرصہ بدنام زمانہ سدے تیمان حراستی کیمپ میں رکھا گیا اور وہ تشدد اور طبی غفلت کا نشانہ بنے۔ ان کے بیٹے الیاس نے مہم کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ان کے والد اور تمام فلسطینی قیدیوں کے ساتھ طبی اخلاقیات کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔ مہم نے فلسطینی قیدیوں کی بھوک، تشدد اور طبی غفلت میں اسرائیلی ڈاکٹروں کی شراکت پر جوابدہی کا مطالبہ بھی کیا۔
ماخذ: الجزیرہ




