گلگت بلتستان میں قائد ملت جعفریہ آغا سید راحت حسین الحسینی کی زیرِ قیادت نوجوانوں کی ماورائے عدالت اور بلاجواز گرفتاریوں کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔ احتجاج میں شریک علماء کرام، عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے حکومت کو بروز پیر تک تمام بے گناہ نوجوانوں کی فوری رہائی کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسین رضوی نے ان ریاستی اور امتیازی کارروائیوں کو قطعی ناقابلِ قبول قرار دیا۔ اس موقع پر آغا سید راحت حسین الحسینی نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر پیر تک گرفتار شدگان کو رہا نہ کیا گیا تو تمام علماء کرام اجتماعی گرفتاریاں پیش کریں گے اور احتجاج کا مزید سخت لائحہ عمل اپنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا ہفتہ حکومت پر اہم پیغام
مظاہرین کی جانب سے حکومت کے سامنے درج ذیل بنیادی مطالبات پیش کیے گئے ہیں:
بے گناہ گرفتار نوجوانوں کی فوری رہائی اور غیر قانونی حراست کا خاتمہ۔
حراست کے دوران مبینہ تشدد کی شفاف تحقیقات۔
مقدسات کی توہین کرنے والے اصل مجرموں کی فوری گرفتاری۔
ماضی کے المناک سانحات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا۔
مسلکی بنیادوں پر ہونے والی ہر قسم کی امتیازی کارروائیوں کا فوری خاتمہ۔
دوسری جانب، اسکردو کی مرکزی امامیہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران آغا سید باقر الحسینی نے گلگت احتجاج کی مکمل اور بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "گلگت اور بلتستان دو قالب اور ایک جان ہیں”۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر بے گناہ نوجوانوں کو فوری رہا نہ کیا گیا تو احتجاج کا یہ دائرہ پورے خطے میں وسیع کر دیا جائے گا۔




