اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے غزہ کی نام نہاد جنگ بندی کے دعوؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کے سامنے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی جنگ بندی نافذ ہے تو غاصب اسرائیلی حملوں میں اب تک 1200 سے زائد فلسطینیوں کا قتلِ عام کیسے ہو گیا؟
پاکستانی سفیر نے غاصب اسرائیل کے ‘ای ون’ (E1) بستیوں کے غیر قانونی توسیعی منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام ہزاروں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدوں کو تباہ کر دے گا۔ انہوں نے غاصب حکومت کی جانب سے روکے گئے فلسطینی فنڈز کی فوری فراہمی کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں :
فلسطینی مندوب ریاض منصور اور اقوام متحدہ کے نمائندے رمیز الاکبروف نے بھی پاکستانی موقف کی تائید کی۔ الاکبروف نے انکشاف کیا کہ 12 اگست سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 فلسطینی شہید اور 400 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 2026 کے اوائل میں مقبوضہ مغربی کنارے میں ماہانہ 190 حملے ریکارڈ کیے گئے اور 20 لاکھ فلسطینی تاحال محصور ہیں۔
اجلاس کے دوران قطری سفیر عالیہ احمد سیف الثانی نے غاصبانہ قبضے کے مکمل خاتمے کو امن کی بنیادی شرط قرار دیا۔ مزید برآں، فرانسیسی سفیر نے اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر کے روزانہ 30 سے 40 فلسطینیوں کو شہید کرنے کے شرمناک بیان کی شدید مذمت کی، جبکہ امریکی سفیر مائیکل والٹز اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد غزہ پلان کا دفاع کرتے نظر آئے۔




