اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی (CERD) نے بھارت میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں، قبائلیوں اور دلت برادری کے خلاف جاری ریاستی مظالم، ماورائے عدالت قتل اور پولیس تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان مظلوم طبقات کے تحفظ کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے نسلی اور مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال، بلاجواز طویل گرفتاریوں، تشدد اور جنسی زیادتیوں جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام ہولناک الزامات کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : جنین میں غاصب صیہونی فوج کا ڈرون حملہ: فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کا نیا سلسلہ
رپورٹ میں خاص طور پر روہنگیا پناہ گزینوں اور بنگالی مسلمانوں کے خلاف جاری منظم کریک ڈاؤن، نسلی پروفائلنگ اور انہیں جبری طور پر بے دخل کرنے کے عمل پر بھی سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کو فوری روکا جائے۔
دوسری جانب، جنیوا میں 2007 کے بعد پہلی بار ہونے والے اس جائزے میں بھارتی وفد کی قیادت کرنے والے بھارتی سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حسبِ روایت ملکی تنوع اور آئینی تحفظ کے کھوکھلے دعوے پیش کیے۔ تاہم، زمینی حقائق اور اقلیتوں پر جاری مسلسل مظالم کے باعث بھارتی حکومت کا یہ دفاع عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔




