مواد پر جائیں

آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستہ اختیار کرنے والا ایک اور آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں

تہران: سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگ سے ٹکرا کر شدید آگ کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق سپاہ بحریہ کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اتوار کی رات جاری بیان میں کہا کہ ساڑھے سات لاکھ بیرل خام تیل لے کر جانے والے ایک شٹل طرز کے ٹینکر نے اتوار کی سہ پہر فورس کی جانب سے جاری کی گئی تنبیہات اور انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر مجاز راستہ اختیار کیا۔

بیان کے مطابق ٹینکر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

شناختی نظام بند کرنے والے جہاز دشمن تصور ہوں گے

ایک علیحدہ انتباہ میں سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں جو بھی جہاز اپنا نیویگیشن اور شناختی نظام بند کرے گا اسے دشمن جہاز کے طور پر شناخت کیا جائے گا اور اس کے ساتھ سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔

اس سے قبل ہفتے کے روز سپاہ بحریہ نے اطلاع دی تھی کہ خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے غیر مجاز راستے کے ذریعے نکلنے کی کوشش میں بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس جہاز نے واقعے سے پہلے اپنا نیویگیشن اور پوزیشننگ سسٹم بند کر رکھا تھا، اور اس میں لگنے والی بڑی آگ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی دکھائی دے رہی تھی۔

ضوابط کی خلاف ورزی کے نتائج

سپاہ پاسداران کی بحریہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ آبنائے ہرمز کے سکیورٹی تقاضوں اور اس پر نافذ ضوابط کو نظر انداز کرنے والے آئل ٹینکروں کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج فارس کے ممالک کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا انتظام ایران کی ذمہ داری ہے اور امریکی دعووں کے برعکس زمینی حقائق ایرانی کنٹرول کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی روز ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے بارے میں امریکہ کے بار بار کے پروپیگنڈا دعوے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

تین روز کے اندر تیسرے ٹینکر کو پیش آنے والا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی بحریہ کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط کی پابندی نہ کرنے والے جہازوں کو سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ اور نیتن یاہو کی بوسیدہ رسی پر بھروسہ نہ کریں: جنرل شکارچی کا علاقائی ممالک کو امریکی سکیورٹی چھتری چھوڑنے کا مشورہ

About The Author