مواد پر جائیں

غزہ کے بچے: نسل کشی میں 21 ہزار 976 بچے شہید

دی وائس آف امہ : غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق اسرائیلی جنگ کے آغاز سے اب تک 21 ہزار 976 بچے شہید ہو چکے ہیں، جن میں ایک سال سے کم عمر کے 1,125 شیر خوار بھی شامل ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین (پال انفو) نے اتوار کو میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کے بچے بمباری کے ساتھ ساتھ یتیمی، بھوک، معذوری اور تعلیم سے محرومی کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔

میڈیا آفس کے مطابق 612 سے زائد بچے اسی جنگ کے دوران پیدا ہوئے اور شہید ہو گئے، جبکہ 22 ہزار سے زائد اسکولی طلبہ بھی شہداء میں شامل ہیں۔ مجموعی شہداء میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے۔

غزہ کے بچے: یتیمی، بھوک اور معذوری

رپورٹ کے مطابق 62 ہزار 247 بچے ماں یا باپ یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں 2,774 بچوں کے والدین دونوں شہید ہوئے۔ بھوک اور غذائی قلت سے 164 بچے دم توڑ چکے ہیں، بے گھر افراد کے کیمپوں میں شدید سردی سے 25 بچے جان سے گئے، اور تقریباً ساڑھے چھ لاکھ بچوں کو بھوک سے موت کا خطرہ ہے۔ اعضا کٹنے کے 5,400 سے زائد واقعات میں تقریباً 972 بچے ہیں، 5,200 سے زائد بچوں کو علاج کے لیے فوری طور پر غزہ سے باہر منتقل کرنے کی ضرورت ہے، اور انسولین نہ ملنے سے ذیابیطس کے شکار 2,432 بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ ساڑھے چھ لاکھ سے زائد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

میڈیا آفس نے سلامتی کونسل، عالمی فوجداری عدالت اور بچوں کے حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ رکوانے، محاصرہ توڑنے، خوراک، دوا اور ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

مزید پڑھیں : غزہ کی خواتین: 50 ہزار خواتین و لڑکیاں شہید یا معذور، اقوام متحدہ

جنگ بندی کے باوجود شہادتیں جاری

مڈل ایسٹ آئی نے فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے حوالے سے بتایا کہ جبالیا کیمپ میں ہفتے کو اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والا سات سالہ جہاد الغندور اتوار کو زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں شہداء کی تعداد 74 ہزار 377 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار 398 ہو گئی ہے۔ المسیرہ کے مطابق 100 سے زائد انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں نے جمعے کو مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی "صرف نام کی” رہ گئی ہے۔

ماخذ: مرکز اطلاعات فلسطین (پال انفو)، مڈل ایسٹ آئی، المسیرہ

About The Author