مواد پر جائیں

میانمار کی مساجد: زلزلے کے ڈیڑھ سال بعد بھی تعمیر نو پر پابندیاں

دی وائس آف امہ : میانمار کی مساجد مارچ 2025 کے تباہ کن زلزلے کے ڈیڑھ سال بعد بھی بڑی حد تک ملبے کا ڈھیر ہیں، اور اس کی وجہ وسائل کی کمی سے زیادہ فوجی جنتا کی پابندیاں ہیں۔ یہ انکشاف برما ہیومن رائٹس نیٹ ورک (بی ایچ آر این) نے 7 اکتوبر کو جاری اپنی رپورٹ "تعمیر نو سے محروم” میں کیا ہے۔

دنیا میانمار کے مسلمانوں کو عموماً روہنگیا کے حوالے سے جانتی ہے، مگر منڈالے، ساگائنگ اور ملک کے وسطی علاقوں میں برمی مسلمانوں کی صدیوں پرانی بستیاں آباد ہیں، جن میں چینی نژاد پنتھے مسلمان بھی شامل ہیں جن کی تاریخی پنتھے مسجد منڈالے میں واقع ہے۔ یہ برادریاں بھی دہائیوں سے مذہبی امتیاز کا سامنا کر رہی ہیں۔

میانمار کی مساجد: 670 نمازی شہید، 180 عمارتیں متاثر

رپورٹ کے مطابق 28 مارچ 2025 کو 7.7 شدت کا زلزلہ اس وقت آیا جب مسلمان نماز جمعہ کے لیے جمع تھے۔ تنظیم نے 29 ٹاؤن شپس میں 180 متاثرہ مساجد اور اسلامی عمارتوں کی نشاندہی کی، جن کے منہدم ہونے سے کم از کم 670 مسلمان شہید ہوئے۔ بی ایچ آر این کے ڈائریکٹر کیاو وِن نے کہا کہ "فوج اور سابقہ حکومتوں نے دہائیوں تک مسلمانوں کے لیے اپنی مساجد کی مرمت ناممکن بنائے رکھی”۔

مزید پڑھیں : اقوام متحدہ کا بھارت کو انتباہ: مسلمانوں اور اقلیتوں پر ریاستی مظالم فوری بند کی جائیں

70 درخواستیں، صرف چار کو اجازت

رپورٹ میں منڈالے کی ایک مسجد کے متولی کے حوالے سے بتایا گیا کہ 70 سے زائد مساجد نے درخواستیں دیں، مگر صرف چار کو مرمت کی اجازت ملی، اور ان کے علم میں صرف پنتھے مسجد کو ازسرنو تعمیر کی منظوری دی گئی۔ بون او گاؤں میں زلزلے کے تین ماہ بعد تک کسی متاثرہ مسجد کو گرانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ تنظیم کے مطابق کوئی واضح قانونی ضابطہ موجود نہیں، فیصلے مقامی افسران کی صوابدید پر ہوتے ہیں، رشوت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، اور کئی برادریاں ایک سال سے زائد عرصے سے عارضی جگہوں پر نماز ادا کر رہی ہیں۔

ماخذ: برما ہیومن رائٹس نیٹ ورک، پروگریسو وائس

About The Author