دی وائس آف امہ : فلپائن کے جنوبی مسلم اکثریتی خطے میں بنگسامورو امن معاہدہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہے۔ فلپائنی ویب سائٹ فل نیوز 24 کے مطابق مورو اسلامک لبریشن فرنٹ (ایم آئی ایل ایف) کے چیئرمین الحاج مراد ابراہیم نے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر سے ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ امن معاہدے پر عملدرآمد پر بات ہو سکے۔
بنگسامورو امن معاہدہ اور ملاقات کا ایجنڈا
رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر کے خط میں مراد ابراہیم نے کہا کہ یہ ملاقات امن سے تنظیم کی وابستگی کی تجدید کرے گی، زیرِ التوا مسائل حل کرے گی اور 2014 کے جامع معاہدۂ بنگسامورو اور بنگسامورو آرگینک لا پر عملدرآمد کے اقدامات طے کرے گی۔ انہوں نے سابق جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے، انہیں اور جنگ سے متاثرہ آبادیوں کو سرکاری امداد کی فراہمی اور امن و امان کی بہتری پر زور دیا۔
پہلی منتخب پارلیمان
بنگسامورو حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق 14 ستمبر کو خطے کے پہلے پارلیمانی انتخابات میں 20 لاکھ 18 ہزار سے زائد ووٹروں نے حصہ لیا اور ٹرن آؤٹ 84.34 فیصد رہا۔ 80 رکنی منتخب پارلیمان 30 اکتوبر کو حلف اٹھا کر خطے کے وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب کرے گی۔
انکوائرر کے مطابق بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی نے 80 میں سے 46 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ایم آئی ایل ایف کے نائب چیئرمین محاجر اقبال نے اسے "سیاسی حقیقت سے زیادہ نمائش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حتمی صورت 30 اکتوبر کی ووٹنگ میں ہی سامنے آئے گی۔
ماخذ: فل نیوز 24، بنگسامورو حکومت کی سرکاری ویب سائٹ، انکوائرر




