دی وائس آف امہ : (رائے) جنوبی شام پر قبضہ کسی بڑے اعلان کے بغیر، قسط وار آگے بڑھ رہا ہے۔ نہ ٹینکوں کا بڑا حملہ، نہ کوئی باضابطہ الحاق؛ بس ہر روز ایک گاؤں میں چھاپہ، ایک کھیت پر گولہ، ایک نوجوان کی گرفتاری۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کے اعداد و شمار، جو جمعے کو جاری ہوئے، اسی خاموش پیش قدمی کی تصدیق کرتے ہیں۔
جنوبی شام پر قبضہ: اعداد خود بولتے ہیں
سانا کے مطابق اقوام متحدہ نے صرف ستمبر میں تقریباً 280 مسلح اسرائیلی دراندازیاں ریکارڈ کیں، جو اس سال کی سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔ کم از کم 49 شامی اسرائیلی حراست میں ہیں اور رہا ہونے والوں نے مار پیٹ اور کتے چھوڑے جانے جیسے مظالم بیان کیے ہیں۔ 4 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے جنوبی قنیطرہ میں نام نہاد "سوفا 53 لائن” پر کھدائی اور زمین ہموار کرنے کا کام دوبارہ شروع کیا۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ہفتے کو رسم الحیدرہ گاؤں میں تازہ چھاپہ رپورٹ ہوا۔
مزید پڑھیں : اسرائیلی آباد کار گروپ نے مقبوضہ شامی زمین پر فصلوں پر قبضے کا مطالبہ کیا
بیانات سے آگے کیا؟
سلامتی کونسل نے جمعرات کو متفقہ طور پر 1974 کے معاہدے اور شام کی علاقائی سالمیت کا اعادہ کیا، اور دمشق نے اس کا خیرمقدم کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کاغذی بیانات زمین پر بچھتی خندقوں کو روک سکتے ہیں؟ قطر نے اسی ہفتے اقوام متحدہ میں کہا کہ بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ اس پر منحصر ہے کہ اس کے قواعد کس طرح نافذ ہوتے ہیں۔ یہی کسوٹی جنوبی شام پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ہماری رائے میں مسلم دنیا اور عرب ممالک کو صرف مذمت کے بجائے اقوام متحدہ کی دستاویزی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر قیدیوں کی رہائی، آزادانہ تحقیقات اور اسرائیلی انخلا کے لیے مربوط سفارتی اور قانونی دباؤ ڈالنا ہوگا؛ ورنہ "قسطوں میں قبضہ” ایک مستقل حقیقت بن جائے گا۔
ماخذ: سانا، مڈل ایسٹ آئی، گلف ٹائمز




