خالد مقبول صدیقی نے کراچی کا مستقل حل صرف نیا صوبہ بنانے میں دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گزشتہ 15 سال میں این ایف سی سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے کہاں خرچ کر چکی ہے؟
یہ بھی پڑھیں : غزہ امداد کنوائے کے کارکنوں کی لیبیا میں گرفتاری، عالمی احتجاج اور بھوک ہڑتال
انہوں نے میٹرو بس اور ماس ٹرانزٹ جیسے بڑے منصوبوں کی عدم تکمیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں زرداری صاحب آ جانے کی وجہ سے یہ منصوبے نہیں بن سکے۔ انہوں نے مختلف الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جب دوسری جماعتوں کو مشکل پڑتی ہے تو وہ بھی لسانی نعرے لگاتی ہیں۔


