غزہ میں صحت کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے انروا نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں چوہے اور پرجیویوں سے منسلک جلدی انفیکشنز کی تعداد 125 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
انروا کے مطابق ہزاروں طبی عملہ روزانہ تقریباً 400 مریضوں کا علاج کر رہا ہے، مگر وسائل انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔
ناصر میڈیکل کمپلیکس نے بتایا کہ غزہ بھر میں 76 فیصد امیجنگ آلات (MRI، CT سکین وغیرہ) اب کام نہیں کر رہے۔ صرف 24 فیصد آلات فعال ہیں جو ناکافی ہیں۔
طبی حکام کے مطابق غزہ میں MRI سہولت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے جبکہ CT سکینرز میں سے صرف 5 فعال ہیں۔ یہ صورتحال تشخیصی اور علاجی عمل کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے ٹرمپ انتظامیہ کو حکمت عملی میں پیچھے چھوڑ دیا، واشنگٹن اب کوڑے میں پھنس چکا ہے۔
سیز فائر معاہدے کے باوجود غاصب صیہونی دشمن کی امداد پر پابندیاں جاری ہیں جس کی وجہ سے صحت کا نظام تیزی سے بکھر رہا ہے۔


