آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، جو امریکہ اور صہیونی رژیم کی جارحیت کے بعد نافذ کی گئی، ان کے اپنے اندازوں کے برعکس انہی پر شدید معاشی اور سیاسی دباؤ بنا ہوا ہے۔
دنیا کی توانائی کی ایک بڑی سپلائی لائن پر یہ ناکہ بندی عالمی تیل کی سپلائی میں خلل پیدا کر رہی ہے، جس سے مارکیٹس غیر مستحکم ہو گئی ہیں اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کے لیے یہ صورتحال افراط زر کی توقعات بڑھا رہی ہے اور فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ صہیونی رژیم معاشی سکڑاؤ، دفاعی اخراجات میں اضافے اور برآمدی کمپنیوں کے نقصان کا شکار ہے۔
خلیجی ممالک (جیسے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب وغیرہ) بھی نقل و حمل، انشورنس اور لاجسٹک لاگت میں اضافے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے مگر نئی لاگتوں نے اس فائدے کو کم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غاصب صیہونی فوج میں شدید انسانی بحران، 12 ہزار فوجیوں کی کمی کا اعتراف
سیاسی طور پر بھی امریکہ کے اتحادی (یورپی ممالک سمیت) یکطرفہ اقدامات کی حمایت سے گریزاں ہیں اور سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ روس اور چین نے بھی یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے۔


