حزب اللہ کے ڈرون حملوں نے اسرائیلی سیکیورٹی اور فوجی حلقوں میں بڑی فکر پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کار اس نئے خطرے کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے فائبر آپٹک ڈرونز نے اسرائیلی دفاعی نظام میں بڑی کمزوریاں سامنے لا دی ہیں۔ ان حملوں میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور موجودہ دفاعی نظام ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی پارلیمنٹ نے حماس کے ‘ایلیٹ فورس’ کے لیے خصوصی فوجی عدالت منظور کر لی
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ساخت، آپریشن اور سوچ کا بھی ہے۔ اسرائیل کے پاس حل موجود ہیں لیکن انہیں بروقت میدان میں استعمال کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
یوکرین جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات کو اسرائیل نے جلدی نہیں اپنایا جبکہ حزب اللہ نے ان سے فائدہ اٹھایا۔ اب اسرائیل پیچھے رہ گیا ہے۔
اسرائیل متعدد تہوں والا دفاعی نظام بنا رہا ہے جس میں ریڈار، آپٹیکل، صوتی اور اے آئی سسٹم شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون جنگ کا مستقبل مزید تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب یہ صرف ایک ٹیکنیکل خطرہ نہیں بلکہ جنگ کی نوعیت کو تبدیل کر رہا ہے۔
اسرائیل کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے میدان میں لانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کم خرچ اور لچکدار طریقوں سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خدشہ ہے کہ موجودہ ڈرون خطرہ صرف آغاز ہے۔ مستقبل میں سیلولر ڈرون اور ڈرون سوارمز مزید بڑا چیلنج بنیں گے۔
اس صورتحال میں اسرائیل کے سامنے بڑا paradox ہے کہ وہ ٹیکنالوجی میں آگے ہے لیکن اسے بروقت استعمال کرنے میں پیچھے ہے۔


