اسرائیلی پارلیمنٹ نے حماس کے مبینہ ‘ایلیٹ فورس’ کے ارکان کے لیے ایک خصوصی فوجی عدالت قائم کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بل مذہبی صیہونیت پارٹی کے قانون ساز سِمچا روتھ مین اور یسرائیل بیتینو پارٹی کے یولیا مالینوفسکی نے پیش کیا تھا۔
بل کو 93 ووٹوں سے منظور کیا گیا، اس کے خلاف کوئی ووٹ نہیں پڑا۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا آپریشنل زون بڑھا دیا گیا، ایران کا بڑا اقدام
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق یہ نئی قانون سازی ‘بے مثال مقدمات’ چلانے کے لیے استعمال ہوگی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بتاتی ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں 9600 سے زائد فلسطینی قیدی ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان قیدیوں پر تشدد، بھوک، جنسی زیادتی اور طبی عدم توجہ کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔


