اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے امریکی نیوز چینل سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری مراکز کو ختم کرنا چاہیے اور اعلیٰ سطح کا یورینیم بھی نکال لینا چاہیے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اہداف میں یورینیم کو ہٹانا، جوہری سائٹس کو ختم کرنا، بیلسٹک میزائل پروڈکشن روکنا اور علاقے میں ایران کے پراکسی گروپوں کو ختم کرنا شامل ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے پاس اب بھی کچھ صلاحیت باقی ہے اگرچہ ہم نے اسے بہت کم کر دیا ہے۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ایران سے یورینیم لینا ممکن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے کہا ہے کہ وہ وہاں جانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : حماس کا الزام: اسرائیل غزہ پولیس کو نشانہ بنا کر خوف و انتشار پھیلا رہا ہے
اتوار کو ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ کے تازہ ترین تجویز کا جواب بھیج دیا۔
علاقائی تناؤ اس وقت بڑھا جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔
8 اپریل کو پاکستانی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی تھی جو بعد میں ٹرمپ نے بغیر کوئی ڈیڈ لائن کے مزید بڑھا دی۔


