امریکی کوشش پھر ناکام، روس نے اقوام متحدہ میں ایران مخالف قرارداد مسترد کر دی
جنیوا (8 مئی 2026): اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف امریکا کی قرارداد کو روس نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا نے بحرین، سعودی عرب، یو اے ای، کویت، قطر کی حمایت سے ایران کے خلاف یہ قرارداد پیش کی تھی، جس میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ایران کے خلاف امریکا کی اس قرارداد کو روس نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نیبینزیا نے واضح کیا کہ ماسکو کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو صرف ایران کو نشانہ بنائے اور خطے میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرے۔
روسی مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ ماسکو ایران کے خلاف یک طرفہ بیانیہ مسلط کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے، جب تک کہ بحران کی اصل وجوہات اور محرکات کو مدنظر نہ رکھا جائے۔
ویسلی نیبینزیا نے خبردار کیا کہ متعصبانہ قراردادوں کی منظوری مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیج فارس میں بحری سلامتی صرف یک طرفہ مذمت یا اشتعال انگیز اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے جاری تنازعات کا خاتمہ اور فوجی کارروائیوں کو روکنا ضروری ہے۔
روس نے سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور تصادم پر مبنی قراردادیں پیش نہ کریں۔


