غزہ میں جنگ بندی کے باوجود قتل و غارت جاری
اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود رہائشی علاقوں پر حملے جاری رکھے ہیں جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
بدھ کی شام اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے وسطی علاقے الدراج میں جبالیہ بس سٹاپ کے قریب حملہ کیا جس میں نوجوان فلسطینی حمزہ الشرباسی شہید ہو گئے جبکہ حماس رہنما کے بیٹے عزام خلیل الحیا سمیت 15 دیگر زخمی ہو گئے۔
ایک الگ واقعے میں غزہ شہر کے الزیتون محلے میں بے گھر افراد کے کیمپ پر اسرائیلی حملے میں کئی فلسطینی زخمی ہو گئے۔
جنوب میں خان یونس کے المواسی علاقے میں اسرائیلی حملے میں پولیس کرنل نسیم الکلزانی شہید ہو گئے جبکہ ان کی گاڑی پر حملے میں دیگر بھی زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران دباؤ میں نہیں ٹوٹے گا، غالیباف کا واضح اعلان
حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے شہریوں کو نشانہ بنانے کی یہ کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ تحریک نے امریکہ اور شرم الشیخ معاہدے کی ضمانت دینے والے ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
اکتوبر 2025 میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 837 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 2381 زخمی ہوئے اور 769 شہداء کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔
7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے اب تک غزہ میں شہدا کی تعداد 72619 اور زخمیوں کی تعداد 172484 ہو چکی ہے۔


