اسرائیلی وزیر پولیس اتامار بن گویر نے بھاری فوجی حفاظت میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں داخل ہو کر اشتعال انگیز اقدامات کیے۔ انہوں نے مسجد کے صحنوں میں اسرائیلی جھنڈا لہرایا جبکہ آباد کاروں کے بڑے گروپوں نے بھی مسجد اقصیٰ میں حملے کیے۔
اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے ارد گرد علاقوں کو بند کر دیا اور فلسطینی نمازیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ مردوں کو 60 سال اور خواتین کو 50 سال سے کم عمر والوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسرائیلی آباد کاروں نے "فلیگ مارچ” کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر حملے کیے جبکہ بن گویر کا یہ اقدام اشتعال انگیز تھا۔
حماس کی مذمت حماس نے بن گویر کے اقدامات اور فلیگ مارچ کو القدس اور مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت تبدیل کرنے کی سازش قرار دیا۔ تحریک نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کریں۔
اسلامی جہاد کی مذمت اسلامی جہاد کے ترجمان محمد الحاج موسیٰ نے کہا کہ فلیگ مارچ مسجد اقصیٰ پر حملہ ہے۔ انہوں نے القدس کے دفاع کو قومی اور عرب ذمہ داری قرار دیا۔
مجاہدین موومنٹ کی مذمت فلسطینی مجاہدین موومنٹ نے عرب اور اسلامی دنیا کی خاموشی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسجد اقصیٰ پر حملے دو ارب مسلمانوں کے جذبات کا مذاق ہیں۔ تحریک نے فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ میں بڑھ چڑھ کر موجودگی کا مطالبہ کیا۔
القدس کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین نے بھی خبردار کیا کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ کے $300 ڈرونز نے اسرائیل کی اربوں ڈالر کی دفاعی نظام کو ذلیل کر دیا
یہ اقدامات اسرائیلی حکومت کی انتہا پسند پالیسیوں کا حصہ ہیں جو مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت مٹانے کی سازش کر رہی ہیں۔


