مواد پر جائیں

جبوتی کشتی حادثہ: 109 تارکینِ وطن جاں بحق، 116 لاپتہ

دی وائس آف امہ : مشرقی افریقہ کے ملک جبوتی کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے کم از کم 109 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 15 بچے شامل ہیں، جبکہ 116 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے اتوار کو جاری بیان میں جبوتی کشتی حادثہ کو اس ساحل پر پیش آنے والا سب سے ہلاکت خیز بحری حادثہ قرار دیا۔

آئی او ایم کے مطابق 305 افراد کو لے کر جبوتی سے یمن جانے والی یہ کشتی 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی رات اوبوک کے شمال میں گوہیرے کے قریب الٹ گئی۔ اب تک نکالی گئی 109 لاشوں میں 52 مرد، 42 خواتین اور 15 بچے ہیں، جن میں نو بچیاں اور چھ بچے شامل ہیں۔ 80 سے زائد افراد زندہ بچ گئے، جو سب ایتھوپیا کے شہری ہیں۔

جبوتی کشتی حادثہ: باب المندب کا خطرناک راستہ

الجزیرہ کے مطابق حادثہ جبوتی کے مشرقی ساحل پر خلیجِ عدن اور آبنائے باب المندب کے سامنے پیش آیا۔ باب المندب اپنے تنگ ترین مقام پر صرف 20 کلومیٹر چوڑا ہے، اور قرنِ افریقہ کے ہزاروں تارکینِ وطن روزگار اور تحفظ کی تلاش میں یمن کے راستے خلیجی ممالک پہنچنے کے لیے یہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔ الجزیرہ نے لکھا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ اور گزشتہ ماہ یمن میں دوبارہ بھڑکنے والی لڑائی کے باوجود یہ سفر رکا نہیں۔

آئی او ایم کے جبوتی مشن کے سربراہ الیگزینڈر کوساک نے اسے "جانوں کا تباہ کن نقصان” قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ اس راہداری پر معاشی مواقع کی تلاش میں نکلنے والے تارکینِ وطن کن خطرات سے دوچار ہیں۔” ادارہ اوبوک میں 64 زندہ بچ جانے والوں کی مدد کر رہا ہے، جبکہ جبوتی کے حکام تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور جاں بحق افراد کی باوقار تدفین کا انتظام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں : افغان مہاجرین کی جبری واپسی: ایک دن میں 163 خاندان لوٹا دیے گئے

غربت، جنگ اور سمندر

آئی او ایم کے مطابق غربت، عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات لوگوں کو یہ سفر اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 10 ستمبر سے اب تک ایتھوپیا سے جبوتی آنے والی 20 ہزار سے زائد نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2025 میں اس راستے پر 900 سے زائد تارکینِ وطن جاں بحق یا لاپتہ ہوئے، جبکہ مارچ 2026 کے ایک اور حادثے میں نو افراد جاں بحق اور 45 لاپتہ ہوئے تھے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ یمن پہنچنے والوں کو بھی تشدد، من مانی گرفتاریوں اور انسانی اسمگلنگ کا سامنا رہتا ہے، اور محفوظ قانونی راستے بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

ماخذ: آئی او ایم، الجزیرہ

About The Author