مواد پر جائیں

افغان مہاجرین کی جبری واپسی: ایک دن میں 163 خاندان لوٹا دیے گئے

دی وائس آف امہ : افغان مہاجرین کی جبری واپسی کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ اطلس پریس کے مطابق طالبان انتظامیہ کے ترجمان حمداللہ فطرت نے ہفتے کو بتایا کہ جمعہ کے روز 678 افراد پر مشتمل 163 مہاجر خاندانوں کو جبراً افغانستان واپس بھیجا گیا۔

افغان مہاجرین کی جبری واپسی کے راستے

بیان کے مطابق 169 افراد پر مشتمل 37 خاندان طورخم کے راستے، 384 افراد پر مشتمل 99 خاندان صوبہ نیمروز میں پلِ ابریشم کے راستے، 19 خاندان قندھار کی اسپن بولدک سرحد سے اور 81 افراد پر مشتمل آٹھ خاندان ہرات کی اسلام قلعہ گزرگاہ سے ملک میں داخل ہوئے۔

مزید پڑھیں : امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک موقف: افغان طالبان دوحہ معاہدے پر عملدرآمد میں ناکام

لاکھوں افراد کا بوجھ

پژواک افغان نیوز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یکم جنوری سے 3 اکتوبر تک 5 لاکھ 81 ہزار 600 افغان ایران سے واپس آئے، جن میں سے 4 لاکھ 92 ہزار 300 یعنی 85 فیصد کو جبراً بے دخل کیا گیا۔ 2025 میں یہ تعداد 19 لاکھ سے زائد تھی۔

ادارے کے مطابق واپس آنے والے خاندانوں کے 67 فیصد سربراہ رسمی تعلیم سے محروم اور 50 فیصد کسی ہنر سے عاری ہیں، جبکہ اس بڑی واپسی نے رہائش، روزگار اور بنیادی خدمات پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ یو این ایچ سی آر نے بین الاقوامی برادری سے مسلسل اور لچکدار امداد کی اپیل کی ہے۔

ماخذ: اطلس پریس، پژواک افغان نیوز

About The Author