مواد پر جائیں

ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع، سینکڑوں پروازیں منسوخ

دی وائس آف امہ : سعودی دارالحکومت کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر یمنی حملے کے بعد ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں اتوار کو مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی شہری ہوابازی حکام کے جاری کردہ نوٹم (پائلٹوں کے لیے فوری نوٹس) میں بتایا گیا کہ ایئرپورٹ اتوار کو گرینچ کے وقت کے مطابق رات 9 بجے تک بند رہے گا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس توسیع کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ریاض ایئرپورٹ کی بندش: پروازوں کا نظام درہم برہم

اماراتی اخبار دی نیشنل نے فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو ریاض آنے اور جانے والی 606 پروازیں منسوخ ہوئیں، جن میں 293 روانگیاں اور 313 آمدیں شامل ہیں۔ اتحاد ایئرویز نے اتوار اور پیر کی آٹھ پروازیں منسوخ کرنے کی تصدیق کی، جبکہ امارات، فلائی دبئی اور ایئر عربیہ کی ریاض پروازیں بھی منسوخ دکھائی گئیں۔ المسیرہ کے مطابق امریکی سفارتی مشن نے اپنے شہریوں کو ایئرپورٹ اور اس کے اطراف سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ کینیڈا، جرمنی اور اسپین کے سفارت خانوں نے بھی ایسی ہی ہدایات جاری کی ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہفتے کے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے تھے۔ آپریشن کی بحالی نقصانات کے جائزے اور تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق سے مشروط ہے۔

مزید پڑھیں : دمام ایئرپورٹ کے قریب یمنی میزائل، ریاض حملے میں 12 جاں بحق

وال اسٹریٹ جرنل کا اعتراف، صنعاء کا انتباہ

المسیرہ کے مطابق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی حکام میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ یمن کے خلاف جنگ مملکت کی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی پر بھی فکر پائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں جیوپولیٹیکل رسک فرم ڈریگن فلائی کا یہ اندازہ بھی شامل ہے کہ سعودی عرب حملوں کو روکنے میں مشکل کا شکار دکھائی دیتا ہے اور حملے جاری رہنے کا امکان ہے۔

صنعاء کا کہنا ہے کہ اس کی اعلان کردہ فضائی ناکہ بندی صرف ریاض تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدہ سمیت دوسرے ہوائی اڈوں تک بھی پھیل سکتی ہے۔ یمن کی قومی کمیٹی برائے امورِ اسیران کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے کہا کہ وہ دور ختم ہو چکا جب یمن کے شہری ہوائی اڈوں پر بمباری اور ناکہ بندی بغیر کسی جواب کے کی جا سکتی تھی، اور آج کا یمن 2015 والا یمن نہیں۔ صنعاء کے مطابق یہ اقدامات اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک سعودی عرب مارچ 2015 سے جاری جارحیت اور ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔

ماخذ: مہر نیوز ایجنسی، المسیرہ، دی نیشنل

About The Author