دی وائس آف امہ : کینیا کے ساحلی جزیرہ نما لامو جانے والی شاہراہ پر نقاب پوش اہلکاروں کے ناکوں کے خلاف شکایات بالآخر پولیس کے نگران ادارے تک پہنچ گئی ہیں۔ کینیائی نیوز سائٹ ہیوی پونڈے کے مطابق 8 اکتوبر کو انڈیپنڈنٹ پولیسنگ اوور سائٹ اتھارٹی (آئی پی او اے) نے لامو-مالندی ہائی وے پر مسافروں کو ہراساں کرنے اور اہلکاروں کی شناخت چھپانے کی شکایات پر کارروائی کا اعلان کیا۔
لامو سواحلی اور باجونی مسلمانوں کا صدیوں پرانا مرکز ہے، جہاں کا قدیم شہر اپنی مساجد اور سواحلی طرزِ تعمیر کے لیے مشہور ہے۔ مسیحی اکثریتی کینیا میں ساحلی مسلمان طویل عرصے سے سکیورٹی آپریشنز کی سختیوں کی شکایت کرتے آئے ہیں، اور اس شاہراہ پر دس برس سے زیادہ رات کا کرفیو نافذ رہا۔
لامو کی شاہراہ پر کیا ہوا
پیپل ڈیلی کے مطابق 29 ستمبر کو کینیا کی معروف تنظیم مسلمز فار ہیومن رائٹس (موہوری) کے چھ ارکان کو گامبا اور منجیلا کے درمیان تقریباً دو گھنٹے روکے رکھا گیا۔ دی اسٹار کے مطابق ٹیم کی قیادت تنظیم کے سربراہ خلیف خلیفہ کر رہے تھے، جو لامو میں آئل ریفائنری منصوبے کے متاثرین کو معاوضہ نہ ملنے کی شکایات پر تین روزہ تحقیقاتی دورے سے لوٹ رہے تھے۔ اخبار کے مطابق تقریباً 20 اہلکاروں میں سے زیادہ تر نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور گاڑی کے آگے پیچھے کیلیں بچھا دی گئیں۔
مزید پڑھیں : آئی سیبانیا کوریا میں مسلمان کمیونٹی کے لیے نئی مسجد کا افتتاح
عدالتی حکم اور حکومتی مؤقف
ہیوی پونڈے کے مطابق ہائی کورٹ نے 21 مئی 2026 کو لامو کا کرفیو معطل کرتے ہوئے اہلکاروں کے لیے واضح شناخت لازمی قرار دی تھی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ناکے دہشت گردی کے خلاف قانونی اقدام ہیں، تاہم لامو ایسٹ کی رکن پارلیمنٹ رویدہ محمد نے ایوان کو بتایا کہ موکووے اور گامبا کے درمیان مسافروں کو آدھی رات کے بعد بھی روک کر واپس بھیجا جا رہا ہے۔ آئی پی او اے کے چیئرمین ڈنکن اوجوانگ نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل یقینی بنانے کے لیے پولیس سربراہ سے رابطہ کیا جائے گا۔
ماخذ: ہیوی پونڈے، پیپل ڈیلی، دی اسٹار




