دی وائس آف امہ : سری لنکا کے مسلمان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر منظم نفرت کا نشانہ ہیں، اور یہ معاملہ اب پارلیمنٹ تک پہنچ گیا ہے۔ تامل روزنامہ ویراکیسری کے مطابق 9 اکتوبر کو سری لنکا مسلم کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ایم ایل اے ایم حزب اللہ کے سوال پر وزیر برائے عوامی سلامتی آنندا وجے پالا نے بتایا کہ سائبر کرائم ڈویژن ملک کے اندر اور بیرون ملک سے بنائے گئے جعلی فیس بک اکاؤنٹس کی تحقیقات کر رہا ہے جو نسلی کشیدگی بھڑکا رہے ہیں۔
بودھ اکثریتی سری لنکا کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً نو سے دس فیصد ہے۔ 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد یہ برادری بار بار ہجوم کے حملوں، کاروباری بائیکاٹ اور 2019 کے ایسٹر دھماکوں کے بعد اجتماعی الزام تراشی کا نشانہ بنی، جبکہ کووڈ کے دوران مسلم میتوں کو زبردستی جلانے کی سرکاری پالیسی نے گہرا زخم چھوڑا۔
سری لنکا کے مسلمان: وزیر کا اعتراف اور انکار
ویراکیسری کے مطابق وزیر نے کہا کہ بعض علاقوں میں گرفتاریاں ہوئی ہیں اور عدالتوں میں رپورٹس جمع کرائی گئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایسی کوئی شکایت نہیں ملی جس سے ظاہر ہو کہ نفرت انگیز مواد صرف مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں نسل پرستی پھیلانے والے گروہ اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں : دہلی میں ایس آئی آر کے خلاف احتجاج: شاہین باغ سے 250 گرفتار
آبادی کے جھوٹے دعوے
لنکا نیوز پیپرز کے مطابق سوشل میڈیا پر مسلم آبادی کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار پھیلائے جا رہے ہیں جن کا سرکاری مردم شماری سے کوئی تعلق نہیں، اور ماہرین کے بقول ان کا مقصد اکثریت میں خوف پیدا کرنا ہے۔ کولمبو ٹیلی گراف میں شائع تجزیے میں لقمان حریث نے لکھا کہ صرف جنوری 2026 میں سوشل میڈیا مانیٹرز نے نقصان دہ تقاریر کے 308 واقعات ریکارڈ کیے، جو دسمبر 2025 کے مقابلے میں 14.76 فیصد زیادہ تھے، اور زیادہ تر مواد سنہالا زبان میں ہے جسے بیرون ملک بیٹھے موڈریٹرز کم ہی سمجھ پاتے ہیں۔
ماخذ: ویراکیسری، لنکا نیوز پیپرز، کولمبو ٹیلی گراف




