مواد پر جائیں

کریمیائی تاتار مسلم خواتین کی حراست میں توسیع، روس منتقلی کا حکم

دی وائس آف امہ : جزیرہ نما کریمیا کی چار کریمیائی تاتار مسلم خواتین، جو ایک سال سے قید ہیں، اب اپنے وطن سے بھی دور روس کی جیل میں منتقل کی جا رہی ہیں۔ کریمیا نیوز ایجنسی (کیو ایچ اے) کے مطابق روستوف آن ڈان کی جنوبی علاقائی فوجی عدالت نے 9 اکتوبر کو بند کمرے میں ہونے والی ابتدائی سماعت کے بعد ان کی حراست میں 28 مارچ 2027 تک چھ ماہ کی توسیع کر دی۔

کریمیائی تاتار بحیرہ اسود کے اس جزیرہ نما کے قدیم ترک نژاد مسلمان باشندے ہیں، جنہیں 1944 میں سوویت حکومت نے اجتماعی طور پر جلاوطن کیا تھا۔ 2014 میں روس کے کریمیا پر قبضے کے بعد سے یہ برادری ایک بار پھر گرفتاریوں اور مقدمات کی زد میں ہے۔

کریمیائی تاتار مسلم خواتین: کون ہیں اور الزام کیا ہے

انسانی حقوق کی کارکن لطفیہ زودیئیوا کے حوالے سے کیو ایچ اے نے بتایا کہ ملزمان میں 19 سالہ نصیبہ سعیدوا، 40 سالہ اسما نعمت اللہ ییوا، 22 سالہ فوزیہ عثمانوا اور 21 سالہ الویزا علییوا شامل ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے حبر ندا کے مطابق روسی ایف ایس بی نے انہیں 15 اکتوبر 2025 کو باغچہ سرائے کے دیہات میں گھروں پر چھاپوں کے بعد حراست میں لیا اور روس میں کالعدم حزب التحریر سے تعلق کا الزام عائد کیا۔ اسما پانچ بچوں کی ماں اور سیاسی قیدی رمزی نعمت اللہ ییف کی اہلیہ ہیں، جبکہ نصیبہ کریمیا کے ایک معروف امام کی بیٹی ہیں اور ایک نرسری میں کام کرتی تھیں۔

مزید پڑھیں : بوسنیا کے نئے رئیس العلماء: نجاد گرابس منتخب

حجاب پھاڑنے کا الزام، روس منتقلی

کیو ایچ اے کے مطابق حراست کے ابتدائی دنوں میں ایف ایس بی کی ایک اہلکار نے فوزیہ عثمانوا کو حجاب پہننے سے روکا اور مرد اہلکاروں کی موجودگی میں ان کا اسکارف پھاڑ دیا، جبکہ اسما اور نصیبہ کو بھی اسی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالتی فیصلے کے بعد چاروں خواتین کو سمفروپول (آق مسجد) کے حراستی مرکز سے روستوف منتقل کیا جائے گا۔ اگلی سماعت 23 اکتوبر کو مقرر ہے۔

ماخذ: کیو ایچ اے (کریمیا نیوز ایجنسی)، حبر ندا

About The Author