دی وائس آف امہ : یورپ کی قدیم ترین مسلم برادریوں میں سے ایک کو نئی قیادت مل گئی۔ ٹی آر ٹی بلقان کے مطابق سراجیوو کے مفتی نجاد گرابس ہفتے کے روز بوسنیا کے نئے رئیس العلماء منتخب ہو گئے۔ انہیں سراجیوو کی غازی خسرو بیگ لائبریری میں ہونے والے انتخابی ادارے کے اجلاس میں 230 ووٹ ملے۔
بوسنیا کے نئے رئیس العلماء کا پیغام
انتخاب کے بعد گرابس نے کہا: "آج اسلامی برادری جیت گئی، آج بوسنیا، سنجاک، کروشیا، سلووینیا اور پوری تارکینِ وطن برادری کے مسلمان جیت گئے”۔ ان کے مطابق مسلمانوں نے ثابت کیا کہ وہ ایک کٹھن انتخابی عمل سے بھی ذمہ داری کے ساتھ گزر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی برادری ہمیشہ ہر بھلائی کے ساتھ کھڑی ہو گی اور ہر اس چیز کے خلاف جدوجہد کرے گی جو ہمارے یا پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو۔
گرابس نے سبکدوش رئیس العلماء حسین کاوازووچ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دو مدتوں تک اسلامی برادری کی قیادت کی۔ ان کے مطابق قیادت کی پُرامن منتقلی پہلی بار 2012 میں ہوئی تھی جب کاوازووچ منتخب ہوئے، اور 2026 میں یہ عمل دہرایا جا رہا ہے۔ کاوازووچ نے تمام مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نیا دور نئے اقدامات کا تقاضا کرے گا۔
حلف برداری 15 نومبر کو
اسلامی برادری کی مجلسِ شوریٰ کے سربراہ ادہم بیچاکچچ کے مطابق نومنتخب رئیس العلماء کو 15 نومبر کو سراجیوو کی غازی خسرو بیگ مسجد میں ایک خصوصی تقریب میں منشور (تقرری کی سند) دی جائے گی، جہاں وہ حلف اٹھائیں گے۔ گرابس 2006 سے 2021 تک لیوبلیانا کے مفتی اور سلووینیا کی اسلامی برادری کے سربراہ رہے، اور 15 ستمبر 2021 سے سراجیوو کے مفتی ہیں۔
ماخذ: ٹی آر ٹی بلقان




