کانفرنس آف اسلامک آرگنائزیشنز (CIO) اور دی مسلم کانگریس (TMC) سے تعلق رکھنے والے مسلم رہنماؤں نے لاگوس اسٹیٹ کے نائب گورنر ڈاکٹر کادری اوبافیمی ہامزات سے ملاقات کے دوران سرکاری تقرریوں میں مساوی نمائندگی، خاندانی معاملات میں شریعت کے نفاذ اور حجاب کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
سی آئی او کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ عبدالرحمن احمد نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم کمیونٹی کوئی ترجیحی سلوک نہیں بلکہ محض انصاف اور مساوات چاہتی ہے۔ انہوں نے اس غلط روایت پر سخت تنقید کی جس کے تحت مسلم کوٹہ پورا کرنے کے لیے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کو تعینات کر دیا جاتا ہے جن کے نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں، اور انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سیاسی حمایت کوئی بلینک چیک نہیں۔
مزید پڑھیں : فرانس میں حجاب پر پابندی کے خلاف انوکھا احتجاج: غیر مسلم شہریوں کی اظہارِ یکجہتی
گرانڈ مفتی شیخ ذکر اللہ شافعی نے بھی حکومت اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا اور سابق گورنر باباتوند فاشولا کے دور حکومت میں نظر آنے والی شمولیت پسندانہ حکمرانی کی تعریف کی۔ انہوں نے لاگوس اسٹیٹ میں خاندانی امور کے لیے شریعت کے قانون کے نفاذ کا پرزور مطالبہ کیا۔
علماء نے اس بات کی وضاحت کی کہ شریعت کا یہ مطالبہ غیر مسلموں پر اسلامی قانون مسلط کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد صرف مسلمانوں کو ازدواجی اور طلاق جیسے خاندانی تنازعات حل کرنے کے لیے ایک رضاکارانہ اور مذہبی بنیادوں پر مبنی قانونی راستہ فراہم کرنا ہے۔




