حالیہ رپورٹس کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس کے شیگول ایئربیس پر کیے گئے ڈرون حملے میں جدید Su-57 لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر آپریشنل طیاروں کے بجائے صرف پروٹو ٹائپس تباہ ہوئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ روس کے فعال Su-57 طیارے محدود تعداد میں ہیں اور انہیں مخصوص اڈوں پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ تجرباتی طیارے مختلف مقامات پر موجود ہوتے ہیں۔
یہ حملہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اہم ضرور ہے کیونکہ یہ تقریباً 1700 کلومیٹر دور اندرون روس تک کیا گیا، جو یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا دائرہ اب صرف فرنٹ لائن تک محدود نہیں رہا بلکہ گہرائی میں موجود اہم اہداف بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امارات ٹوٹنے لگے، شارجہ علیحدگی اور دبئی کی معاشی تباہی قریب
اگرچہ اس حملے سے روس کے Su-57 بیڑے پر براہ راست بڑا اثر نہیں پڑا، تاہم اس نے دفاعی تنصیبات اور فضائی اڈوں کی سیکیورٹی پر سوالات ضرور اٹھا دیے ہیں۔ دوسری جانب روس کی جانب سے ان جدید طیاروں کی پیداوار بڑھانے کیلئے نئے صنعتی اقدامات بھی جاری ہیں، جو مستقبل میں فضائی جنگ کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ واقعہ ایک اہم اشارہ ہے کہ جدید جنگ میں ڈرونز اور طویل فاصلے کے حملے کس طرح اسٹریٹجک گہرائی کو متاثر کر رہے ہیں اور دونوں فریق اپنی حکمت عملی کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔


