امارات کے ٹکڑے ٹکڑے، عنقریب شارجہ امارات سے علیحدگی اختیار کر لے گا، اختلافات شدت اختیار کرنے لگے۔
دبئی کی محفوظ پناہ گاہ کی شبیہ ختم ہو گئی؟؟
دبئی اب مچھلی اور تیل کی تجارت پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے، مصنوعی اور جھوٹی شان و شوکت ریت کے ذرات کی مانند بہہ گئی!
متعدد رپورٹس بتاتی ہیں کہ دبئی کے مالیاتی مراکز کے خاتمے، کمپنیوں کے دیوالیہ پن اور ایرانی فنڈز کی ضبطی کے حوالے سے جو دعوے کیے گئے ہیں، وہ بڑی حد تک درست ہیں۔ تفصیلات میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، لیکن واضح ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے متحدہ عرب امارات کی معیشت اور اس کی اہم ترین صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دبئی کی محفوظ پناہ گاہ کی شبیہ ختم ہو گئی ہے۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں فوجی اہداف کے ساتھ ساتھ معاشی اور بینکنگ مراکز کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے اس شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : Pakistan, 10 Nations Condemn Israeli Raid on Gaza Aid Flotilla, Demand Release of Activists
بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سی کمپنیاں اپنا کاروبار منتقل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے واضح دھمکیوں کے بعد متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے دبئی کے کاروباری اضلاع (DIFC) میں اپنے دفاتر خالی کر دیے اور عملے کو انخلاء کا حکم دے دیا۔ ان میں PwC، Deloitte، اور Citi جیسی بڑی فرمیں شامل ہیں۔ HSBC نے قطر میں اپنی شاخ بند کر دی۔
"مالیاتی مراکز سوئٹزرلینڈ، سنگاپور اور استنبول کی طرف جا رہے ہیں”۔ سنگاپور کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ استنبول فنانشل سینٹر (IFC) کو بہت سے سرمایہ کار ایک بہترین متبادل سمجھ رہے ہیں۔ کمپنیاں استنبول میں جانے پر غور کر رہی ہیں تاکہ اپنے آپریشنز کو اس خطے میں زیادہ محفوظ بنا سکیں۔
"خلیجی ممالک کے درمیان مسابقت تباہ کن ثابت ہوئی ہے، دبئی اب مچھلی اور تیل کی تجارت پر منحصر ہو کر رہ گیا ہے”۔


