انقرہ یونیورسٹی کے پروفیسر خالد العویسی نے بتایا ہے کہ انتہا پسند عیسائی صیہونی نظریہ اور یہودی آباد کار قوم پرستی کا گٹھ جوڑ مسجد اقصیٰ کو گرانے کی سازش کر رہا ہے۔
ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلمان نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے، جو اسلام کے تیسری سب سے مقدس مقام کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔
پروفیسر خالد العویسی کے مطابق یہودی روایت میں ہیکل کی تعمیر اور فلسطین میں یہودیوں کی واپسی کو مسیحا (ماشیح) کی آمد سے جوڑا جاتا ہے۔ جدید صیہونی تحریک نے اسے انسانی کوششوں سے حاصل کرنے کا عقیدہ بنا لیا ہے جو اب اسرائیلی سیاست کے مرکزی دھارے میں داخل ہو چکا ہے۔
عیسائی صیہونی (خاص طور پر امریکی انجیلین fundementalists) بائبل کی لفظی تفسیر پر یقین رکھتے ہیں اور مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل کی تعمیر کو مسیح کی واپسی کی پیشگی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ “آرماگیڈن” (آخری جنگ) کی تمہید ہے۔
دونوں گروہوں کا یہ اتحاد اب سیاسی اور عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ “ریڈ ہیفر” (سرخ گائے) کا منصوبہ اسی سازش کا حصہ ہے جس کے ذریعے ہیکل کی تعمیر کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہودی اور عیسائی صیہونیوں کے درمیان یہ اتحاد بنیادی طور پر سیاسی ہے، نہ کہ نظریاتی۔ عیسائی صیہونی یہودیوں کو اپنے apocalyptic (قیامت والے) منصوبے کا آلہ سمجھتے ہیں۔
اس سازش کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ اب یا تو مکمل طور پر بند رکھی جاتی ہے یا اسرائیلی شرائط پر کھولی جاتی ہے، جو “تیسرے ہیکل” کی طرف ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی شطرنج کھلاڑی زہرا پروین FIDE ماسٹر بن گئیں
یہ صورتحال نہ صرف فلسطینی شناخت اور خودمختاری کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی سطح پر مذہبی انتہا پسندی اور جغرافیائی سیاسی بحران کو بڑھاوا دے رہی ہے۔


