اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حماس کے مبینہ اہلکاروں کے لیے خصوصی فوجی عدالت قائم کرنے والے قانون کو منسوخ کر دے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف تعصب کو مزید گہرا کرے گا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔
قانون کو 93 ووٹوں سے منظور کیا گیا جبکہ کوئی ووٹ اس کے خلاف نہیں پڑا۔
اس قانون کے تحت اسرائیل فلسطینی اسیران پر مقدمات چلا سکے گا اور انہیں سزائے موت بھی سنائی جا سکے گی۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے خبردار کیا کہ یہ قانون ایک طرفہ انصاف اور فلسطینیوں کے خلاف امتیاز کو قانونی شکل دے گا۔
اسرائیلی میڈیا نے اس قانون کا موازنہ دوسری عالمی جنگ کے بعد نازی اہلکار ایڈولف آئیخمان کے مقدمے سے کیا ہے۔
اسرائیل کے عقوبت خانوں میں تقریباً 9300 فلسطینی اسیر موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد پر مقدمہ چلائے بغیر انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : جنرل موسوی: ہم سب ایرانی قوم کی ٹیم ہیں
اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔


