یران کے قائم مقام وزیر دفاع سردار ابن الرضا نے انکشاف کیا ہے کہ دشمن قوتوں نے ایران پر حملے کے لیے خاص طور پر بم تیار کیے تھے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حالیہ مسلط کردہ جنگ میں فوجی، سائبر اور نیابتی عناصر پر مبنی ایک مشترکہ اور خطرناک حکمت عملی اپنائی گئی۔
انہوں نے اس تنازعے کو پہلی وسیع پیمانے کی ڈرون اور میزائل جنگ قرار دیا جس میں غیر معمولی نوعیت کی فضائی کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور غیر متناسب آپریشن تھا جس کا مقصد ایرانی دفاع کو کمزور کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : ملائیشیا کے وزیر اعظم: کسی بھی اسرائیلی کو ملائیشیا میں داخلے کی اجازت نہیں
سردار ابن الرضا کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں انجینئرز، محققین اور سائنسدانوں نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ عوامی شمولیت اور اعلیٰ قیادت کی رہنمائی کے باعث دشمن کو بالآخر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ نے دشمن کی جنگی چالوں اور رویوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا ہے، جس کی بنیاد پر اب مستقبل کی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
قائم مقام وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ ایرانی وزارتِ دفاع اب آئندہ پچاس برسوں کے ممکنہ خطرات پر تحقیق کر رہی ہے تاکہ عوامی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مؤثر دفاعی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن نے بے پناہ اخراجات کے باوجود ناکامی سمیٹی، جبکہ اس کے برعکس ایران نے کم وسائل میں رہتے ہوئے انتہائی مؤثر اور کامیاب دفاع کیا۔





One Response