امریکہ کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو انشورنس کوریج فراہم کرنے کا منصوبہ ابھی تک نافذ نہیں ہو سکا، حالانکہ اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی تھی۔
فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ منصوبہ تقریباً دو ماہ پہلے کا ہے، مگر اب تک عملی شکل نہیں اختیار کر سکا۔
اخبار کے مطابق اس منصوبے کی ممکنہ مالیت 225 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، لیکن انشورنس بروکرز کا کہنا ہے کہ یہ پلان امریکی بحریہ کی فوجی حمایت پر منحصر ہے، جس کی وجہ سے بہت سے جہاز مالکان اسے استعمال کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
مارش میں میرین انشورنس کے سربراہ مارکس بیکر نے بتایا کہ بھارتی حکومت کا نیا انشورنس میکانزم زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے کیونکہ وہ مالی معاونت پر مبنی ہے اور فوجی حمایت پر انحصار نہیں کرتا۔
حالیہ مہینوں میں خلیج فارس میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے سمندری انشورنس مارکیٹ میں لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں کی انشورنس لاگت بہت بڑھ گئی ہے اور شرائط سخت ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر حملے شروع کر دیے، ایران جنگ میں نیا محاذ کھل گیا
آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً ایک پانچویں حصہ گزرتا ہے۔ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے انشورنس کمپنیاں اب اضافی پریمیم اور سخت شرائط پر کوریج دے رہی ہیں۔
یہ صورتحال عالمی سمندری نقل و حمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔


