مواد پر جائیں

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کا وسیع کریک ڈاؤن: 95 سے زائد فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا

دی وائس آف امہ : اسرائیلی فورسز نے بدھ کی رات اور جمعرات کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف قصبوں اور علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں اور میدانی تفتیش (فیلڈ انٹیروگیشن) کا ایک نیا اور وسیع سلسلہ شروع کیا، جس کے دوران تقریباً 95 فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں بنیادی طور پر طوباس، نابلس، الخلیل، جنین، بیت لحم اور البیرہ کے علاقوں میں کی گئیں۔ قلقیلیہ میں سابق قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو بطور خاص نشانہ بنایا گیا، جبکہ درجنوں گھروں بشمول وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے سربراہ موید شعبان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

مزید پڑھیں : غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملہ: گاڑی کو نشانہ بنائے جانے سے 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی

فلسطین پریزنرز سوسائٹی (PPS) کے مطابق، ان چھاپوں کے دوران نہ صرف گھروں کے سامان کو تباہ کیا گیا بلکہ رہائشیوں پر بدترین تشدد بھی کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب زیتون کی کٹائی کے سیزن کے دوران فلسطینیوں کی زمینوں پر غیر قانونی یہودی آباد کاروں کے حملوں میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کی تعداد 26,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ خود اسرائیل نے اسی عرصے کے دوران 46,000 فلسطینیوں کی گرفتاری اور تفتیش کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلسل گرفتاریوں، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر اسرائیل کو کٹہرے میں لائیں۔

About The Author