دی وائس آف امہ : فلسطینی انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ہفتے کو ایک صدارتی فرمان جاری کیا جس کے تحت صدارتی اور قانون ساز انتخابات اب ایک ساتھ 11 ستمبر 2027 کو ہوں گے۔ سرکاری فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق یہ فیصلہ تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کے بعد کیا گیا۔
فلسطینی انتخابات ملتوی: 28 نومبر کا فرمان منسوخ
وفا کے مطابق نئے فرمان سے پہلے 2026 کا فرمان نمبر 4 منسوخ کیا گیا، جس کے تحت قانون ساز انتخابات 28 نومبر 2026 کو ہونا تھے۔ فرمان میں القدس، مغربی کنارے اور غزہ کے عوام کو آزاد اور براہِ راست انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔
التوا کی وجوہات میں اسرائیلی قابض افواج کے مسلسل حملے، یہودی بستیوں کی توسیع، آبادکاروں کے حملے، مشرقی القدس سمیت مغربی کنارے میں چھاپے، نقل و حرکت پر پابندیاں اور فلسطینی ٹیکس محصولات کی ضبطی شامل ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق پی ایل او نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں انتخابی سامان اور بین الاقوامی مبصرین کو داخلے کی اجازت نہیں دی۔
مزید پڑھیں : غزہ جنگ بندی کا ایک سال: وعدے ادھورے، قتل و غارت جاری
قومی مکالمے کا وقت، مایوسی کا اظہار
پی ایل او ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق قاہرہ اجلاسوں میں جامع قومی مکالمے اور اسرائیلی رکاوٹیں دور کرنے کی کوششوں کے لیے التوا کی سفارش کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔
دوسری جانب فلسطینی نیشنل انیشی ایٹو کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوثی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اس فیصلے پر فلسطینی عوام میں شدید مایوسی ہے۔ فلسطینی علاقوں میں آخری پارلیمانی انتخابات 2006 میں ہوئے تھے۔
ماخذ: وفا، الجزیرہ




