مواد پر جائیں

تہران میں عالمی اجلاس: مسئلہ فلسطین کا حل ریفرنڈم اور مسلم امہ کی عملی حمایت

تہران میں اسلامی بیداری کی عالمی اسمبلی کے زیراہتمام ‘مسئلہ فلسطین کا حل’ کے موضوع پر ایک اہم عالمی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک کے نامور علمائے کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔ شرکاء نے متفقہ طور پر فلسطینی عوام کے ذریعے ریفرنڈم کے انعقاد اور مزاحمتی محاذ کی بھرپور عملی حمایت کو خطے میں دیرپا امن کی واحد ضمانت قرار دیا ہے۔

اجلاس میں علمائے کرام اور مختلف ممالک کے نمائندوں کی جانب سے درج ذیل اہم نکات پر زور دیا گیا:

  • ریفرنڈم اور عوامی فیصلہ: عالمی اہل بیت اسمبلی کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری نے انتخابات اور ریفرنڈم کو غاصب صیہونی جرائم کے خاتمے کا بہترین، اصولی اور منطقی راستہ قرار دیا۔

  • امریکی منصوبے مسترد: مقررین نے واضح کیا کہ دہشت گرد امریکا کے نام نہاد امن منصوبے کبھی فلسطینیوں کے مفاد میں نہیں ہو سکتے، اور صرف مزاحمت ہی دشمن کو عوامی فیصلے کے سامنے جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

  • یمن کا غیر متزلزل موقف: یمنی رہنماؤں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ سخت ترین عالمی پابندیوں کے باوجود مظلوم فلسطینیوں کی حمایت یمن کی اولین اور سب سے بڑی ترجیح ہے۔

  • مسلم حکمرانوں کی غفلت: علمائے کرام نے افسوس کا اظہار کیا کہ متعدد مسلم حکمران اپنی بنیادی ذمہ داریاں فراموش کر کے دنیاوی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے امت مسلمہ کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسپین میں فلسطین کے حق میں عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ: غاصب اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ

اجلاس کے دوران لبنان، یمن اور دیگر ممالک کے نمائندوں نے فلسطینی کاز کے دفاع میں ایرانی قیادت کے مسلسل کردار کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریفرنڈم کے نفاذ اور فلسطینیوں کی پشت پناہی کی بھاری ذمہ داری تنہا ایران پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ پوری اسلامی دنیا اور تمام مسلم ممالک پر فرض ہے کہ وہ غاصب اسرائیل اور اس کے حامیوں کے خلاف متحد ہو کر میدان میں آئیں اور فلسطینیوں کی آزادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن مدد فراہم کریں۔

About The Author