ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی رژیم کی غیر قانونی جارحیت کے نتائج اب امریکی اسکولوں تک پہنچ گئے ہیں۔
ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے امریکی اسکولوں کے پہلے سے محدود بجٹ پر شدید دباؤ پڑا ہے جس سے طلبہ کی خدمات اور جنریٹرز کی لاگت برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے یاکیما، ٹیکساس اور الاسکا سمیت متعدد اسکول ڈسٹرکٹس اپنے ہنگامی فنڈز استعمال کر رہے ہیں تاکہ اسکول چل سکے۔ الاسکا میں حکام اسکول کی لائٹس جلانے کے لیے ایندھن کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک اہلکار نے کہا کہ "یہ معاملہ جتنا نظر آتا ہے اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔”
یہ بحران ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا صرف ایک ضمنی اثر ہے جس نے عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ فروری کے آخر سے جاری اس جارحیت کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے تیز اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : متحدہ عرب امارات اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان ہتھیاروں کے تعاون کا نیا معاہدہ
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے بڑا سیاسی بوجھ بنتی جا رہی ہے۔


