دی وائس آف امہ : ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں روس نے تہران کا مؤقف واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ہفتے کے روز بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد جمعہ 9 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو میں تنازع کے ممکنہ حل سے متعلق ایران کا نقطۂ نظر ان کے سامنے رکھا۔
ترکمانستان میں پزشکیان سے دو ملاقاتیں
روسی خبر رساں ادارے اسپوتنک کے مطابق پیسکوف نے کہا کہ پیوٹن نے ترکمانستان میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر سے دو ملاقاتیں کیں، جن میں سے ایک میں انہیں ٹرمپ سے رابطے کے بارے میں آگاہ کیا۔ پیسکوف کے بقول: "پھر ایرانی صدر کے ساتھ ہم آہنگی سے پیوٹن نے تنازع کے ممکنہ حل کے بارے میں ایران کا نقطۂ نظر ٹرمپ تک پہنچایا۔” کریملن نے ایرانی مؤقف کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی نے روسی ایجنسی تاس کے حوالے سے پیسکوف کا یہ بیان بھی نقل کیا کہ امریکی صدر کی خواہش پر گفتگو کا بیشتر حصہ یوکرین کے تصفیے پر مرکوز رہا۔
مزید پڑھیں : پاکستان کا امریکہ اور ایران پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر زور
عراقچی: نیتن یاہو "مطلوب جنگی مجرم” ہے
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ایکس پر اپنے پیغام میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایسا "مطلوب جنگی مجرم” قرار دیا جس کے ہاتھ "عرب، امریکی اور ایرانی خون” سے رنگے ہوئے ہیں۔ مہر نیوز ایجنسی کے مطابق عراقچی نے لکھا کہ نیتن یاہو "ایک تباہ حال جواری کی طرح مزید امریکی خون اور دولت کے ذریعے خود کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے”۔ ان کے بقول "اب تو امریکی سینیٹرز بھی نکلنا چاہتے ہیں۔”
مہر نیوز نے یہ بیان ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جارحانہ جنگ کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے۔
ماخذ: اسپوتنک، تسنیم نیوز ایجنسی (بحوالہ تاس)، مہر نیوز ایجنسی




