ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ اگر رہبر انقلاب مذاکرات سے منع کرتے تو حکومت ہرگز مذاکرات نہ کرتی۔
یہ بھی پڑھیں : بحیرہ عرب میں امریکی ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ، ایک اہلکار لاپتہ
صدر پزشکیان نے کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے 13 ارکان میں سے 12 نے مذاکرات کی حمایت کی۔ تمام فیصلے رہبر انقلاب کی پالیسیوں اور نظام کے اصولوں کے مطابق لیے گئے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے اتحاد اور استقامت کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔


