شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے سیاسی اور نظریاتی ورثے میں فلسطین مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے نزدیک فلسطین نہ صرف مقبوضہ زمین بلکہ امت مسلمہ کا سب سے اہم مسئلہ، انسانی ضمیر کا زخم اور مغربی استکبار کے خلاف مزاحمت کا محور تھا۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطینی فصائل نے غزہ ایمرجنسی کمیٹی کے استعفیٰ کا خیر مقدم کیا
شہید رہبر نے بار بار تاکید کی کہ فلسطین کی آزادی کے لیے مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے مذاکرات کو ناکام اور نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ "مزاحمت ہی مظلوم فلسطین کو آزاد کر سکتی ہے۔”
ان کے نزدیک القدس فلسطین کا دارالحکومت ہے اور اس کا دفاع امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے فلسطین کو اسلامی بیداری کا مرکز قرار دیا اور مزاحمتی محور کو اسی کے گرد منظم کیا۔
شہید خامنہ ای نے فلسطین کے لیے واپسی کے حق سمیت ایک ریفرنڈم کی تجویز بھی پیش کی، جس میں 1948 سے پہلے کے تمام اصل باشندوں (مسلمان، عیسائی اور یہودی) کو شامل کیا جائے۔


