ترکی، پاکستان، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غاصب اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے میں خاص طور پر مشرقی بیت المقدس کے قریب ‘ای ون’ (E1) بستیوں کے منصوبے اور صیہونی غاصبوں کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے پرتشدد مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ‘ای ون’ منصوبہ ایک انتہائی خطرناک اسرائیلی سازش ہے۔ اس کا مقصد فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل توڑنا اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس بطور دارالحکومت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش کا مکہ معاہدے میں شمولیت پر مثبت غور: وزیر خارجہ کا اہم اعلان
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ غاصبانہ تسلط اور جبری بے دخلی کے یہ اقدامات عالمی قوانین اور امن کی کوششوں، بشمول ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں دیرپا اور منصفانہ امن کا واحد اور قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ ان صیہونی اقدامات سے علاقائی و عالمی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اپنے مشترکہ بیان کے اختتام پر مسلم ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غاصب اسرائیل کے غیر قانونی توسیعی منصوبوں کو فوری رکوایا جائے۔ انہوں نے ان ظالمانہ اقدامات کی حمایت اور فنڈنگ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے اور مظلوم فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے تحفظ پر بھرپور زور دیا۔




