مغربی اور علاقائی میڈیا نے ایران-امریکہ مفاہمتی معاہدے میں غزہ کے مقام کو لے کر غلط بیانی کا نیا محاذ کھول دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اور امریکہ کے درمیان جامع معاہدے میں مدد کے لیے تیار ہیں، روسی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم سے گفتگو میں واضح کیا کہ تہران فلسطینی عوام کے تمام جائز حقوق حاصل ہونے تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔ معاہدے کی پہلی شق میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ شامل ہے، جو غزہ کو خارج کرنے کے دعووں کو کمزور کرتی ہے۔
ایران نے گزشتہ 47 سال سے فلسطینی مزاحمت کی مستقل حمایت کی ہے اور اسے امریکی-صہیونی جارحیت کے خلاف ایک اٹوٹ محاذ سمجھتا ہے۔ لبنان کے بعد غزہ بھی علاقائی تصفیے میں اہم مقام رکھتا ہے۔


