عراقی سیکیورٹی کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اتوار کو میڈیا رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کی حمایت کے لیے عراق کے صحرا میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے انادولو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے مغربی صحرا میں اسرائیل کے خفیہ فوجی اڈے کی رپورٹس جھوٹی ہیں۔
انہوں نے مارچ میں پیش آنے والے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عراقی فورسز نے وسطی عراق کے النخیب صحرا میں ایک پراسرار فضائی کارروائی کا سامنا کیا تھا اور اس وقت صورتحال کو سنبھال لیا گیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ہفتے کے روز نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملوں کی حمایت کے لیے عراق کے صحرا میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی ڈرون حملے میں جنوبی لبنان میں دو شامی شہید
اخبار نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی خصوصی دستے اس اڈے پر تعینات تھے جو اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک ہب کا کام کر رہا تھا۔
اسرائیلی فوج نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
عراق، اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے اس رپورٹ پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
علاقائی تناؤ اس وقت بڑھا جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی تھی جو بعد میں بغیر ڈیڈ لائن کے مزید بڑھا دی گئی۔