مواد پر جائیں

او آئی سی اجلاس: صنعاء کا مسلم ممالک سے یمن پر سعودی جارحیت اور محاصرہ ختم کرانے کا مطالبہ

دی وائس آف امہ: بغداد میں ہفتے کو شروع ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس سے قبل یمن کی صنعاء حکومت نے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری سعودی جارحیت اور محاصرے کے خاتمے کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔

سبا کے مطابق یمنی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو جاری بیان میں سورۂ حجرات کی آیت "اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو” کا حوالہ دیتے ہوئے اسلامی ممالک پر مصالحت کی کوشش کرنے پر زور دیا۔ وزارت نے امید ظاہر کی کہ اجلاس سعودی حکومت کے اس "بہتانِ عظیم” کو قبول نہیں کرے گا کہ یمن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنا رہا ہے، اور کہا کہ یہ دعویٰ اس قوم کی سخت توہین ہے جو اسلامی مقدسات پر اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ وزارت نے رکن ممالک سے سورۂ حجرات ہی کی روشنی میں خبر کی تحقیق کرنے کی اپیل بھی کی۔

او آئی سی سے مطالبہ: "ہم ہر غیر جانبدار ملک کے سامنے حقائق رکھنے کو تیار ہیں”

بیان میں کہا گیا کہ صنعاء کے مطالبات جائز اور منصفانہ ہیں، ناقابلِ عمل نہیں، اور ان کا تعلق جارحیت اور محاصرے کے خاتمے سے ہے۔ وزارت کے مطابق بارہ برسوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کے ساتھ ساتھ گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، ہوائی اڈوں، سڑکوں، پلوں، بازاروں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ معاشی محاصرے، تنخواہوں کی بندش، صنعاء ایئرپورٹ کی بندش اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ وزارت نے کہا کہ وہ سعودی الزامات کو کسی بھی منصف اور غیر جانبدار ملک کے سامنے غلط ثابت کرنے کو تیار ہے، اور یہ کہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی محفوظ ہے۔

مزید پڑھیں: عدن میں معسکر بدر پر یمنی میزائل حملہ، سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر نشانہ

"عمانی ثالثی سے روڈ میپ طے ہوا، مگر ریاض پیچھے ہٹ گیا”

نائب وزیر خارجہ عبدالواحد ابوراس نے متعدد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو خطوط ارسال کیے، جن میں کہا گیا کہ صنعاء نے عمان کی سرپرستی میں ہونے والی مشاورت میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں ایک روڈ میپ طے پایا، لیکن سعودی حکومت اس سے پیچھے ہٹ گئی اور "نہ امن نہ جنگ” کی کیفیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ خطوط کے مطابق موجودہ کشیدگی کا آغاز 13 جولائی کو صنعاء ایئرپورٹ پر حملے سے ہوا، جس کا مقصد مسافروں اور مریضوں کو لے جانے والی ایک انسانی پرواز کو روکنا تھا۔

ابوراس کے مطابق اس کے بعد سے 2,350 سے زائد فضائی اور میزائل حملوں میں 107 افراد شہید اور 278 زخمی ہوئے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعاء کا ہاتھ منصفانہ، باعزت اور پائیدار امن کے لیے بدستور بڑھا ہوا ہے اور وہ برادر ممالک کی ہر کوشش کے لیے تیار ہے، تاہم اپنے دفاع کا حق استعمال کرتی رہے گی۔

اناطولیہ کے مطابق او آئی سی اجلاس کا افتتاح عراقی وزیر اعظم علی فالح الزیدی نے کیا اور عراق نے ترکیہ سے تنظیم کی گردشی صدارت سنبھال لی۔ "مکالمہ اور یکجہتی” کے عنوان سے ہونے والے اس دو روزہ اجلاس میں غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں اور اسلامی دنیا کے دیگر بحرانوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

About The Author