مواد پر جائیں

ذمار پر سعودی کلسٹر بم حملہ: 3 بچے شہید، 17 زخمی

دی وائس آف امہ: یمن کے صوبہ ذمار میں سعودی جنگی طیاروں کی جانب سے رہائشی مکانات پر بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بموں سے کی گئی بمباری میں تین بچے شہید اور 17 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یمنی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق یہ حملہ ضلع ضوران آنس کے علاقے قاع الحقل میں العری اور برزاء نامی دیہات پر کیا گیا۔

سبا کے مطابق زخمیوں میں سات بچے اور تین خواتین شامل ہیں، جن میں سے ایک حاملہ خاتون کا حمل اس حملے کے نتیجے میں ضائع ہو گیا۔ کلسٹر بموں سے تین مکانات کو نقصان پہنچا، ایک کھیت کا سولر سسٹم تباہ ہوا اور متعدد مویشی بھی ہلاک و زخمی ہوئے۔

کلسٹر بم: بچوں کے لیے طویل المدتی خطرہ

خواتین اور بچوں کے حقوق کی تنظیم "انتصاف” نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آبادی والے علاقوں میں کلسٹر گولہ بارود کا استعمال شہریوں کے لیے فوری خطرہ ہے، اور یہ ایسا اَن پھٹا بارود چھوڑ جاتا ہے جو حملے ختم ہونے کے طویل عرصے بعد بھی خصوصاً بچوں کی جانوں کے لیے خطرہ بنا رہتا ہے۔ تنظیم نے تعز کے ضلع الوازعیہ کے علاقے المشاولہ میں ایک ہیلتھ سینٹر پر سعودی فضائی حملے کا بھی ذکر کیا جس میں ایک شہری شہید اور ایک خاتون زخمی ہوئی، جبکہ صعدہ کے سرحدی اضلاع باقم اور منبہ میں تین افریقی تارکینِ وطن سعودی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ تنظیم کے مطابق تحقیقات اور احتساب کا فقدان مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عدن میں معسکر بدر پر یمنی میزائل حملہ، سعودی افواج کا کمانڈ ہیڈکوارٹر نشانہ

یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے جمعہ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سعودی افواج نے دارالحکومت صنعاء اور الضالع، تعز، الحدیدہ، ذمار، مأرب، صعدہ، الجوف، عمران اور لحج کے صوبوں پر 101 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ ان کے مطابق ان حملوں میں خمیس مشیط اور طائف کے اڈوں سے اڑنے والے ایف-15 اور ٹائفون طیارے استعمال ہوئے اور نجران سے میزائل داغے گئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

114 شہید، 305 زخمی؛ ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا شکار

صنعاء میں وزارتِ صحت کے مطابق 3 ستمبر سے 15 اکتوبر تک سعودی جارحیت کے نتیجے میں 13 صوبوں میں 114 افراد شہید اور 305 زخمی ہوئے، جن میں سب سے بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے بھی انسانی صورتحال کی سنگینی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق یمن میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، 20 لاکھ سے زائد کم سن بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ستمبر سے جاری لڑائی نے مزید دو لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق یمن اپنی 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق رواں سال ہیضے کے 8,034 مشتبہ کیسز اور 27 اموات رپورٹ ہوئیں، جن میں سے ایک چوتھائی کیسز گزشتہ چار ہفتوں میں سامنے آئے۔ اقوام متحدہ کے معاون سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور محمد یحییٰ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یمن کا نظامِ صحت تباہی کے قریب ہے اور انسانی امداد کی اپیل کے لیے صرف 22 فیصد فنڈز مل سکے ہیں۔

About The Author